around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 26°
پاکستان

پشاور: محکمہ صحت میں کروڑوں روپے کی بےضابطگیوں کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ مزید 7 روز کے لیے منظور

احتساب عدالت پشاور نے محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں مبینہ مالی بےضابطگیوں کے ملزم عرفان الحق کو نیب کے حوالے کرتے ہوئے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

around.pk·1h ago

پشاور کی احتساب عدالت نے محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں کروڑوں روپے کی مبینہ مالی بےضابطگیوں سے متعلق مقدمے میں گرفتار ملزم عرفان الحق کا جسمانی ریمانڈ مزید سات روز کے لیے منظور کر لیا ہے۔ ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔ احتساب جج محمد حامد مفل نے استدعا پر کارروائی کے بعد ملزم کو نیب کی تحویل میں دے دیا۔

نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے جعلی دستاویزات کے ذریعے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل سے متعلق ٹھیکوں کے لیے قابلیت حاصل کی۔ تفتیش کے مطابق ملزم نے سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز شوکت علی کے ساتھ ملی بھگت کی اور اس کی فرم کو 30 کروڑ روپے مالیت کے پانچ پرچیز آرڈرز جاری کیے گئے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی فرم کو ایک ماہ کے اندر پوری 30 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی، تاہم مکمل رقم وصول کرنے کے باوجود 6 کروڑ 93 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کا سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ اس ضمن میں نیب کی جانب سے تحقیقاتی کارروائی جاری ہے اور مزید ریمانڈ کی درخواست تفتیش مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر کی گئی۔

واضح رہے کہ نیب کے چیئرمین نے 16 اپریل 2026 کو ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس کے بعد نیب ٹیم نے ایک روز قبل ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی استدعا کو قبول کرتے ہوئے ملزم کا مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تاکہ تفتیش کے باقی مراحل مکمل کیے جا سکیں۔

یہ کیس سرکاری محکموں میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کروڑوں روپے کی مبینہ بےضابطگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے وسائل کا درست استعمال عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے اور اس نوعیت کے مقدمات سرکاری اداروں میں جوابدہی کے نظام کی مضبوطی کا تعین کرتے ہیں۔

نیب کی جانب سے تفتیش کے دوران مزید دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی تاکہ رقم کے بہاؤ اور سامان کی فراہمی سے متعلق تمام پہلوؤں کی تصدیق کی جا سکے۔ عدالت کی جانب سے ریمانڈ میں توسیع کے بعد توقع ہے کہ تفتیشی ٹیم آئندہ سماعتوں میں مقدمے کی پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔

یاد رہے کہ پشاور میں انسداد بدعنوانی کے اداروں کی جانب سے سرکاری محکموں میں مالی بےضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور اس کیس کی سماعت آئندہ ہفتے دوبارہ متوقع ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں