around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 26°
پاکستان

اسلام آباد کے گرلز ماڈل اسکول سے کروڑوں روپے مالیت کا الیکٹرانک سامان چوری

اسلام آباد کے علاقے کُری شہر میں واقع گرلز ماڈل اسکول سے نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کا الیکٹرانک سامان چوری کر لیا، اسکول انتظامیہ نے تھانہ بنی گالہ میں درخواست جمع کروا دی ہے۔

around.pk·59m ago

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے کُری شہر میں واقع ایک گرلز ماڈل اسکول میں چوری کا بڑا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم افراد نے رات کے وقت اسکول میں داخل ہو کر کروڑوں روپے مالیت کا الیکٹرانک سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق چور مختلف کمروں کے تالے توڑ کر اندر داخل ہوئے اور قیمتی سامان سمیٹ کر فرار ہو گئے۔

اسکول حکام کے مطابق چوری شدہ اشیا میں پچاس روم بکس، چار لیپ ٹاپ، چوبیس سی پی یو اور پندرہ ٹیبلٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزمان اسکول سے بیٹریاں، یو پی ایس اور اسٹیبلائزر بھی لے گئے، جبکہ فریج کا تالا بھی توڑا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واردات منظم طریقے سے کی گئی۔

اسکول کی پرنسپل آمنہ نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ تھانہ بنی گالہ میں جمع کروا دی ہے، جس میں چوری شدہ سامان کی تفصیل اور نقصان کا تخمینہ درج کیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق وزارت تعلیم کے اعلیٰ حکام کو بھی اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ معاملے کی فوری طور پر تحقیقات کی جا سکیں۔

یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، کیونکہ اسکول میں کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان موجود ہونے کے باوجود چور رات بھر بغیر کسی مزاحمت کے واردات کرنے میں کامیاب رہے۔ ماہرین کے مطابق اسکولوں میں نگرانی کے جدید نظام، سی سی ٹی وی کیمروں اور گارڈز کی تعیناتی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی ملزم کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ مقامی حلقوں میں یہ بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اسکول میں چوری کی واردات کے بعد طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادارے کے لیے مختص وسائل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ طلبہ کے تعلیمی ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ اسکولوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے اور تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں