شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی: شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر کسی سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ صوبائی کابینہ نے گندم کی ریلیز پرائس میں کمی سمیت متعدد ترقیاتی فیصلے منظور کر لیے ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کو پُرامن و قانونی طریقے سے جلسے کے لیے متعلقہ حکام سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ کراچی میں سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی فریق کو حکومت پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شہر میں تصادم یا بدامنی کی فضا پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم تمام سیاسی جماعتوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہر صورت مقدم ہے اور کوئی بھی گروہ قانون سے بالاتر نہیں۔
صوبائی خودمختاری اور صوبوں کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت اپنا مؤقف واضح کر چکی ہیں اور سندھ اسمبلی سے بالاتر کوئی قانون یا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق منتخب صوبائی اسمبلی اس معاملے پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور اسے ہر صورت تسلیم کیا جائے گا۔
کابینہ کے فیصلوں کی تفصیل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ سرکاری گندم کی ریلیز پرائس پانچ ہزار روپے سے کم کر کے چار ہزار پانچ سو روپے فی چالیس کلوگرام کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں آٹا تقریباً سترہ روپے فی کلو سستا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیڈی ڈفرن اسپتال ٹرسٹ کو سندھ ٹرسٹ ایکٹ 2020 کے تحت رجسٹر کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
اجلاس میں ضلع جامشورو کی پانچ ترقیاتی اسکیموں کے لیے پچاس کروڑ سے زائد کے اضافی فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ نوابشاہ ٹاؤن، ضلع شہید بینظیر آباد میں واٹر سپلائی اور ڈرینج نظام کی بہتری کے لیے تقریباً دو ارب ننانوے کروڑ روپے کی لاگت والی اسکیم بھی منظور کی گئی۔
سینئر وزیر نے بتایا کہ کچی آبادیوں سے متعلق ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ان علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو آپریشن سے متعلق قوانین اور تجاویز مرتب کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی اور اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔








