around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 27°⛅ لاہور 23°⛅ اسلام آباد 18°
دنیا

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین الیکشن، اخراجات 12 کھرب روپے سے تجاوز کی توقع

امریکہ میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں مجموعی طور پر 1193 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہوگی۔ ڈیموکریٹس 552 کروڑ اور ریپبلکنز 512 کروڑ ڈالر خرچ کریں گے۔

around.pk·46m ago

امریکہ میں آج (3 نومبر) ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 1193 کروڑ ڈالر (تقریباً 12 کھرب پاکستانی روپے) خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سیاسی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اوپن سیکرٹس کے مطابق یہ رقم امریکی تاریخ کے کسی بھی وسط مدتی انتخابات سے زیادہ ہے اور رواں سال کے انتخابی اخراجات سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیں گے۔

تخمینے کے مطابق اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی مہم پر 552 کروڑ ڈالر جبکہ حکمران ریپبلکن پارٹی 512 کروڑ ڈالر خرچ کرے گی۔ اس کے علاوہ آزاد امیدواروں اور مختلف گروہوں کی جانب سے تقریباً 130 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جس سے مجموعی اخراجات 1000 کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

گزشتہ وسط مدتی انتخابات (2022) میں مجموعی طور پر 894 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے، اس طرح رواں سال اخراجات میں تقریباً ایک تہائی اضافہ متوقع ہے۔ امریکی تاریخ میں صرف 2020 اور 2024 کے صدارتی انتخابات ہی ایسے تھے جن پر انتخابی مہمات کے لیے اس سے زیادہ رقم خرچ ہوئی، جن کا تخمینہ تقریباً 1500 کروڑ ڈالر تھا۔

ماہرین کے مطابق اخراجات میں اس غیر معمولی اضافے کی وجہ انتخابی مہمات کی ڈیجیٹل تشہیر، ٹی وی اشتہارات اور سیاسی کمیٹیوں کی جانب سے بھاری فنڈنگ ہے۔ اوپن سیکرٹس کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتخابی مہم کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہیں اور حتمی اخراجات میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات صدارتی انتخابات کے دو سال بعد ہوتے ہیں اور انہیں موجودہ حکومت کے لیے عوامی ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔ رواں سال کے انتخابات میں معیشت، صحت کی دیکھ بھال اور مہاجرت جیسے اہم امور زیر بحث ہیں، جبکہ دونوں بڑی جماعتیں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں