around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 23°⛅ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکی سیاست کا بدلتا منظر: عالمی امن اور معیشت کے لیے نئی آزمائش

امریکی داخلی سیاست کے دباؤ، ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور عام صارفین کی معیشت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

around.pk·2h ago

دنیا کی سیاست میں بعض فیصلوں کے اثرات صرف ان ملکوں تک محدود نہیں رہتے جہاں ان کا اعلان ہوتا ہے، بلکہ یہ سمندری راستوں، عالمی منڈیوں، معیشتوں اور کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچ جاتے ہیں۔ واشنگٹن میں انتخابی نتائج کا صدمہ ہو یا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اشارے، دونوں الگ معاملات ضرور ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک مشترکہ حقیقت کارفرما ہے۔ امریکی سیاست کا داخلی دباؤ اب عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی آزمائش بنتا جا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں ایک واضح تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ انتخابی نتائج تسلیم کرنے اور حزب اختلاف کے ساتھ تعاون کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینے سے گریز نہیں کرتے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکا اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا حق رکھتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کو اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دینا چاہیے؟ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی تحفظات کوئی نئی بات نہیں، تاہم جوہری تنازع کے حل اور فوجی تصادم کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ سفارت کاری اختلافات کو قابلِ گفت و شنید بناتی ہے، جب کہ جنگ انھیں ناقابل واپسی دشمنیوں میں تبدیل کر سکتی ہے۔

اس صورتحال کا سب سے تشویش ناک پہلو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کا بارودی سرنگوں سے ٹکرانا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور یہاں معمولی نوعیت کا عسکری واقعہ بھی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر سکتا ہے۔ اگر اس سمندری راستے کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف امریکا یا ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یورپ، ایشیا اور بالخصوص ان ترقی پذیر معیشتوں کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی خطے پر انحصار کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مال برداری کے اخراجات، بیمہ پالیسیوں کی لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، یوں جنگ کا ایک فیصلہ ان لوگوں کی زندگیوں میں مہنگائی کا نیا طوفان لا سکتا ہے جن کا اس تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

خطے کے ممالک کو بھی اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ باہمی بداعتمادی اور جوابی کارروائیوں کا تسلسل انھیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کا کوئی واضح فاتح نہیں ہوگا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ دوبارہ لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں اور تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، سفارتی راستے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اسی طرح ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے رابطوں کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ اگرچہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ابھی تک کسی نکتے پر اتفاق نہیں ہو سکا، لیکن سفارت کاری میں ابتدائی اختلافات مذاکرات کے خاتمے کا جواز نہیں بننے چاہئیں۔

امریکا کے اندرونی سیاسی حالات اس پورے بحران کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی خراب کارکردگی اور ڈیموکریٹس کی پیش قدمی نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزمرہ زندگی کے اخراجات نے امریکی ووٹرز کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے، اور صدر ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ پٹرول کی مہنگائی نے انتخابی نتائج میں کردار ادا کیا۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کی توثیق ہے کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف فوجی طاقت یا عالمی سطح پر اثرورسوخ نہیں بلکہ عام شہری کی معاشی آسودگی بھی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتائج تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی بظاہر ایک مثبت سیاسی اشارہ ہے، تاہم ڈیموکریٹس کی قانون سازی کے خلاف صدارتی ویٹو استعمال کرنے کا عندیہ اس مفاہمت کی حدود بھی واضح کرتا ہے۔ مشی گن میں مسلم اور عرب نژاد ووٹرز کا ردعمل بھی امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ گزشتہ انتخاب میں امن اور جنگ بندی کی امید پر ٹرمپ کی حمایت کرنے والے بعض ووٹرز اب ان کی پالیسیوں سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکی معاشرے میں خارجہ پالیسی اب محض سفارتی حلقوں کا موضوع نہیں رہی بلکہ انتخابی سیاست کا براہِ راست حصہ بن چکی ہے، اور کسی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ مالی وسائل کے علاوہ عوامی اعتماد، سماجی شناخت اور اخلاقی ترجیحات بھی کرتی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں