around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 23°☀ لاہور 19°⛅ اسلام آباد 17°
دنیا

امریکی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے داخلوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کردی

بوسٹن کی وفاقی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے داخلہ ریکارڈ حاصل کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست خارج کردی؛ فیصلہ وسط مدتی انتخابات سے قبل انتظامیہ کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

around.pk·1h ago

امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک عدالتی دھچکا لگا ہے۔ بوسٹن میں امریکی ضلعی جج مائیونگ جون نے پیر کے روز محکمہ انصاف کا وہ مقدمہ خارج کردیا جس کے ذریعے حکومت ہارورڈ یونیورسٹی سے داخلے کا ریکارڈ حاصل کرنا چاہتی تھی۔

اس مقدمے کی بنیاد یہ جانچنا تھا کہ آیا ہارورڈ یونیورسٹی طلبہ کے داخلے میں اب بھی نسل کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں۔ محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ یہ معلومات 2023 میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ضروری ہیں، جس میں جامعات کے داخلوں میں نسل کی بنیاد پر ترجیح دینے کے طریقہ کار کو مسترد کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ حکومت نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مقدمہ دائر کیا اور ہزاروں طلبہ کی نجی معلومات طلب کیں۔ یونیورسٹی نے اس اقدام کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ادارے پر دباؤ ڈالنے کی وسیع مہم کا حصہ قرار دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عدالتیں ہارورڈ یونیورسٹی کے دو ارب ڈالر سے زائد وفاقی تحقیقی فنڈز روکنے اور غیر ملکی طلبہ کی میزبانی محدود کرنے کے حکومتی اقدامات کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں۔ یہ پیش رفت انتظامیہ کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں ایک اور ناکامی ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ناگوار قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستیں اور سینیٹ کی 35 نشستیں زیر مقابلہ ہیں، اور اطلاعات کے مطابق 11 سینیٹ نشستوں پر مقابلہ کانٹے کا متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلے انتخابی مہم کے دوران حکومت کی قانونی حکمت عملی اور تعلیمی اداروں سے متعلق پالیسی پر سوالات اٹھا سکتے ہیں، تاہم حتمی اثر انتخابی نتائج پر منحصر ہوگا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں