امریکی مڈٹرم انتخابات: ٹرمپ کی پالیسیوں پر ریفرنڈم، اخراجات 11.5 ارب ڈالر سے تجاوز
امریکا میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات آج ہو رہے ہیں جن میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ یہ انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں جن پر 11.5 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

امریکا میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات آج (تین نومبر) منعقد ہو رہے ہیں اور اس بار ان انتخابات کو دنیا بھر میں غیر معمولی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ عام طور پر یہ انتخابات عالمی سطح پر کوئی بڑی خبر نہیں ہوتے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ان کی پالیسیوں کے سبب عالمی نظام میں پیدا ہونے والی ہلچل کے باعث ان کا دائرہ اثر وسیع ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور مختلف لابیاں بشمول امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی (ایپک) اب تک اپنے پسندیدہ امیدواروں کی مہم پر ساڑھے گیارہ ارب ڈالر خرچ کر چکی ہیں۔ یہ رقم گزشتہ صدارتی انتخابی مہم کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے، جس کے باعث یہ انتخابات امریکی کانگریس کی تاریخ کے سب سے مہنگے انتخابات قرار دیے جا رہے ہیں۔
اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ پر حکمران ریپبلکن پارٹی کی گرفت ہے، جس کے سبب وائٹ ہاؤس کو قانون سازی اور بجٹ کی منظوری میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ تاہم اگر کوئی ایک ایوان بھی حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول میں آ جائے تو موجودہ صدارتی پالیسیوں کو کسی حد تک لگام لگ سکتی ہے۔ اسی لیے ان انتخابات کو صدارتی پالیسیوں پر ایک قسم کے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی کل 435 اور سینیٹ کی سو نشستیں ہیں۔ سینیٹ کی مدت چھ برس جبکہ ایوانِ نمائندگان کی مدت دو برس ہے۔ آج تقریباً اکیس کروڑ ووٹر ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی ایک تہائی یعنی 35 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں جو اس وقت ریپبلکنز کے پاس ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں ہیں۔
سینیٹ کی جن 35 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے ان میں سے 22 ریپبلکن اور 13 ڈیموکریٹ ارکان نے خالی کی ہیں۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے نہ صرف اپنی 13 نشستیں برقرار رکھنی ہوں گی بلکہ ریپبلکنز کی چار نشستیں بھی جیتنی ہوں گی۔ اسی طرح آج 36 ریاستوں میں نئے گورنروں، ریاستی اسمبلیوں اور بلدیاتی قیادت کے لیے بھی ووٹنگ ہو رہی ہے۔
عام امریکی ووٹر کے لیے مقامی اداروں کے انتخابات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور اس بار بھی ووٹرز کی اولین ترجیح معیشت ہے۔ ایک سال پہلے کے مقابلے میں پٹرول کی دوگنی قیمتیں، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، روزمرہ اشیا کی گرانی اور علاج معالجے کے بڑھتے اخراجات ووٹر کے ذہن میں ہیں۔ اس کے بعد جمہوری اقدار، تارکینِ وطن کا مسئلہ اور متعدد ریاستوں میں تیزی سے قائم ہونے والے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے سبب پانی کے بڑھتے ہوئے بحران جیسے مسائل شامل ہیں۔
پولنگ سے ایک ہفتہ قبل کے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں کو صرف 31 فیصد ووٹر پسند کرتے ہیں، جبکہ 44 فیصد ووٹرز ڈیموکریٹس، 36 فیصد ریپبلکنز اور پانچ فیصد دیگر امیدواروں کے حامی ہیں۔ پندرہ فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ آخری لمحات میں فیصلہ کریں گے کہ کسے ووٹ دینا ہے۔









