around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی، سرکاری اور مارکیٹ ریٹ میں 300 روپے فی کلو فرق برقرار

ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی اور سرکاری نرخ کے مقابلے مارکیٹ میں تقریباً 300 روپے فی کلو زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ امپورٹرز ایسوسی ایشن نے نومبر میں مزید اضافے اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔

around.pk·18m ago

ملک بھر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں کمی نہ آ سکی اور سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمت کے درمیان تقریباً 300 روپے فی کلو کا فرق برقرار ہے۔ صارفین کو 550 سے 600 روپے فی کلو تک ایل پی جی خریدنا پڑ رہی ہے، جس سے عام گھرانوں اور چھوٹے کاروباروں پر مالی بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایران سے تفتان بارڈر کے راستے گیس کی ترسیل جاری ہے، تاہم بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کے باعث باؤزرز کی آمد میں نمایاں تاخیر ہو رہی ہے۔ پہلے یہ باؤزر تین سے چار روز میں منزل تک پہنچتے تھے، جبکہ اب انہیں 10 سے 12 روز لگ رہے ہیں۔ اس تاخیر کا فائدہ اٹھا کر بعض حلقے من مانی قیمتوں پر گیس فروخت کر رہے ہیں، جس سے سرکاری اور مارکیٹ نرخوں کا فرق مزید مستحکم ہو گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کو کئی ماہ سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور اوگرا حکام سے مذاکرات کے ساتھ تحریری طور پر بھی مسائل کی نشاندہی کی گئی، لیکن تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی ترسیل کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ سپلائی چین بحال ہو سکے۔

دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے اوگرا اور سول ڈیفنس کی چھاپوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دو روزہ علامتی ہڑتال کے ذریعے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ کارروائی پلانٹ مالکان کے خلاف کی جانی چاہیے، کیونکہ جب دکاندار کو ہی مہنگی گیس ملے گی تو وہ سستی کیسے فروخت کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف جرمانے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ایل پی جی پمپس بھی اٹھا لیے جاتے ہیں، جس سے کاروبار مزید متاثر ہو رہا ہے۔

ایل پی جی کی مہنگائی نے رکشہ ڈرائیوروں کی مشکلات بھی بڑھا دی ہیں۔ ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ اب پورا ایک کلو گیس خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے اور کبھی 200 تو کبھی 300 روپے کی گیس ڈلوائی جاتی ہے، جبکہ ساری کمائی گیس پر خرچ ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق ٹریفک پولیس کے روزانہ ہزاروں روپے کے چالان بھی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں اور مہنگی گیس نے دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اوگرا اور وزارت پٹرولیم کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے، جس سے صارفین اور کاروباری حلقے دونوں پریشان ہیں۔ اگر سکیورٹی اور سپلائی کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو نومبر میں قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ ہے، جو افراط زر اور عام آدمی کی قوت خرید پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں