around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 23°⛅ اسلام آباد 21°
دنیا

سپر ایل نینو: شدید گرمی سے دنیا بھر میں تقریباً نو لاکھ اضافی اموات کا خدشہ

شکاگو یونیورسٹی کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق سپر ایل نینو کے باعث اگلے دس ماہ میں شدید گرمی سے تقریباً نو لاکھ اضافی اموات ہو سکتی ہیں، جن میں نائیجیریا، بھارت اور انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔

around.pk·2h ago

موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سپر ایل نینو کے اثرات کے باعث دنیا بھر میں آئندہ دس ماہ کے دوران شدید گرمی سے تقریباً نو لاکھ اضافی اموات کا امکان ہے۔ یہ انتباہ شکاگو یونیورسٹی کی کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس میں موسمی شدت اور انسانی صحت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال جون سے ستمبر تک کے عرصے میں گرمی سے چار لاکھ 84 ہزار 500 اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ آئندہ چھ ماہ میں مزید تین لاکھ 72 ہزار 900 ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان دونوں ادوار کے اعداد و شمار ملا کر مجموعی طور پر تقریباً نو لاکھ اضافی اموات کا امکان سامنے آتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک نائیجیریا ہو سکتا ہے، جہاں 56 ہزار سے زائد اضافی اموات متوقع ہیں۔ بھارت میں 55 ہزار جبکہ انڈونیشیا میں تقریباً 29 ہزار افراد کی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چین، نائیجیریا اور بھارت مل کر ایل نینو سے متعلق گرمی کے باعث ہونے والی مجموعی اموات کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ایل نینو ایک موسمیاتی مظہر ہے جس کے دوران بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سطح سمندر کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے کئی خطوں میں گرمی کی شدت اور موسمی تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس بار اسے ’سپر ایل نینو‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی شدت عام سالوں کے مقابلے میں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی خاص طور پر ایسے علاقوں میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں اور آبادی کی بڑی تعداد گرمی سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات تک رسائی نہیں رکھتی۔ بوڑھے افراد، بچے اور طویل عرصے تک کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدور اس صورتحال میں زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاتا رہا ہے کہ حکومتیں اور متعلقہ ادارے گرمی کی لہروں سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی کریں، عوامی آگاہی مہمات چلائیں اور صحت کے نظام کو اضافی بوجھ کے لیے تیار رکھیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں