مدینہ منورہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی کوشش، خلیجی ممالک کی حوثیوں کی مذمت
سعودی زیرقیادت اتحاد کے مطابق فضائی دفاع نے مدینہ منورہ کی جانب آنے والا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ قطر، کویت، بحرین اور اردن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے علاقے مدینہ منورہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی کوشش کے بعد خلیجی اور عرب ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے مدینہ منورہ کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا، جبکہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی فضائی حدود میں ایک حوثی ڈرون کو بھی مار گرایا گیا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے کھیل قرار دیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام سعودی خودمختاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ دوحہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ریاض کے تمام جائز اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
اسی طرح کویت، بحرین اور اردن نے بھی حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ تعاون اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ عرب ممالک کے اس مشترکہ مؤقف کو خطے میں سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں جاری تنازعے کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششیں پہلے بھی رپورٹ ہوتی رہی ہیں، جنہیں سعودی فضائی دفاع اکثر ناکام بناتا رہا ہے۔ تاہم مدینہ منورہ کے علاقے کی جانب حملے کی کوشش کو مذہبی اور عوامی سطح پر انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے اس ماحول میں خلیجی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام یمن تنازعے کی سفارتی صورت حال پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان پر بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ردعمل ضروری ہے۔









