ٹانک میں چار پولیو ورکرز اغوا، پولیس کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے بعد چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا، پولیس نے تحقیقات اور بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے بعد چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا ہے۔ یہ واقعہ یونین کونسل شیخ اتار کے علاقے گاؤں جیوس میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد ورکرز کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کے مطابق اغوا کار چاروں پولیو ورکرز کو نامعلوم مقام پر منتقل کر گئے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اسی دوران خیبر پختونخوا کے اضلاع ہنگو، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہنگو میں ڈی پی او صلاح الدین کنڈی، بنوں میں ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈی پی او ضیاء الدین احمد مہم کے سیکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔
حکام نے مہم میں تعینات اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ لازمی استعمال کریں، ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں اور مکمل طور پر الرٹ رہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ پولیو ورکرز کے خلاف ایسے واقعات ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں، اور سیکیورٹی ادارے ان واقعات میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے مسلسل کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔
ٹانک میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے نے علاقے میں پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے اغوا شدہ ورکرز کی جلد بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔









