ٹرمپ کا اعلان: ڈیموکریٹس کی جیت پر تمام بل ویٹو کر دیے جائیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیں تو وہ 'مسٹر ویٹو' بن کر مخالف جماعت کے تمام بل مسترد کر دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ مخالف جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے تمام بلوں کو ویٹو کر دیں گے اور انھیں اپنا ایجنڈا نافذ کرنے نہیں دیں گے۔ یہ بات انھوں نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایسی صورتحال میں وہ خود کو ’مسٹر ویٹو‘ قرار دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل ویٹو کیے جانے کے بعد ڈیموکریٹس کا قیمتی وقت ضائع ہوگا اور ایک یا دو ماہ میں وہ مجبور ہو کر مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ری پبلکن پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی تاکہ انھیں اس حکمت عملی کا سہارا نہ لینا پڑے۔
واضح رہے کہ امریکی آئین کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے منظور شدہ بل کو مسترد کر سکے، تاہم اگر دونوں ایوانوں کے دو تہائی ارکان اس فیصلے کے خلاف ووٹ دیں تو صدارتی ویٹو کو کالعدم بھی کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت کے دوران اب تک دو مرتبہ ویٹو کا اختیار استعمال کر چکے ہیں، جبکہ اپنی پہلی مدت میں انھوں نے دس بل مسترد کیے تھے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے جن میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف تین نشستیں جیتنے کی ضرورت ہے، جس کے بعد قانون سازی کے عمل میں صدر کے اختیارات کے مقابلے میں کانگریس کا کردار اہم ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق صدارتی ویٹو کا مسلسل استعمال دونوں جماعتوں کے درمیان قانون سازی کے معاملات میں تعطل پیدا کر سکتا ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسی صورتحال میں دونوں جماعتوں نے سمجھوتے کے ذریعے معاملات طے کیے ہیں۔ اس بیان نے امریکی سیاست میں آنے والے انتخابات کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔









