around.pk
Saturday, 31 October 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
پاکستان

پلاسٹک اور کچرے سے سمندری حیات کو خطرہ: کلفٹن ساحل پر نایاب کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا

کراچی کے کلفٹن ساحل پر نایاب نسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا، ماہرین اور فشرمین سجاگ فورم نے سمندری آلودگی اور پلاسٹک کے کچرے کو سمندری حیات کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

around.pk·17m ago

کراچی کے کلفٹن ساحل پر نایاب نسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔ یہ کچھوا اولیو ریڈلے نسل سے تعلق رکھتا ہے، جو بحیرہ عرب میں کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کچھوے کی موت کی حتمی وجہ واضح نہیں ہو سکی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سمندر میں یا کسی ماہی گیری کے جال میں پھنسنے کے باعث ہلاک ہوا۔

فشرمین سجاگ فورم کے چیئرمین نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمندر میں پھینکی جانے والی پلاسٹک کی تھیلیاں اور دیگر کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندری حیات کے تحفظ اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع کو برقرار رکھنا دونوں اہم امور ہیں، جن پر متوازن انداز میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اولیو ریڈلے نسل کے کچھوے افزائش نسل کے لیے پہلے کراچی سمیت پاکستانی ساحلوں کا رخ کیا کرتے تھے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بیس سال قبل یہ کچھوے پاکستان میں بڑی تعداد میں دیکھے جاتے تھے، جبکہ اب ان کی موجودگی نایاب ہوتی جا رہی ہے۔

ادھر حالیہ دنوں میں جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسے دو اولیو ریڈلے کچھوؤں کو بحفاظت سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ نسل سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتی ہے، اور ماہرین کے مطابق ان کے سفر اور افزائش نسل کے رویوں کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیق ناگزیر ہے۔

پڑوسی ملک میں ایک اولیو ریڈلے کچھوے پر جی پی ایس ٹیگ لگا کر تحقیق کی گئی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ اس نے ٹیگ لگنے کے بعد پورا بحیرہ عرب عبور کیا اور عمان پہنچ کر افزائش نسل کے لیے قیام کیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔

سمندری کچھوؤں کی ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے ساحلی علاقوں کی صفائی، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور ماہی گیر برادری کی شراکت داری کو یقینی بنانا ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندری حیات کا تحفظ نہ صرف ماحولیاتی توازن بلکہ ساحلی برادریوں کی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں