پیوٹن سے ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ کی ملاقات، مجتبیٰ خامنہ ای کا خط بھی حوالے
ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں خطے کی سلامتی کی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی، جبکہ رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر کا ایک خط بھی پیوٹن کے حوالے کیا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ ملاقات جمعرات کے روز ہوئی جس میں خطے کی سلامتی کی موجودہ صورتِ حال اور جاری کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس موقع پر محسن رضائی نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری پیغام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حوالے کیا۔ رضائی نے بعد ازاں بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی خواہش تھی کہ یہ پیغام جلد از جلد روسی صدر تک پہنچایا جائے، جبکہ پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق گفتگو کے دوران جنگ کے بعد کے حالات اور خطے کے امن و سلامتی کے انتظامات سے متعلق اہم امور پر مشاورت کی گئی۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں مجتبیٰ خامنہ ای کے خط کے مندرجات یا دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے حوالے سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس پس منظر میں روس اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ماسکو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان سفارتی اور سلامتی امور پر رابطے ماضی میں بھی جاری رہے ہیں، تاہم اس ملاقات کو خطے کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی وفد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔
اس قسم کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بین الاقوامی سفارت کاری میں اہم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ ان سے خطے کی سلامتی اور استحکام سے متعلق پالیسیوں کی سمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے ملاقات کے نتائج یا کسی具体的 معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔









