پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ ٹالا گیا، وزیر پیٹرولیم کا ریفائنریز کے تعاون کا انکشاف
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا ہے کہ جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہونا تھا، تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر یہ بوجھ عوام کے بجائے آئل ریفائنریز پر ڈالا گیا، جس سے صارفین کو بروقت ریلیف فراہم ہوا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کے روز پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ناگزیر تھا، مگر وزیراعظم کی ہدایت پر اس اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے آئل ریفائنریز پر ڈالا گیا۔ ان کے مطابق ریفائنریز نے اس حوالے سے تعاون کیا اور حکومت کے ساتھ مل کر تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا، جس کی بدولت پیٹرول کی قیمت میں اضافہ روکا جا سکا۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث انشورنس اور لاجسٹکس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ان حالات میں عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے فیول سبسڈی اسکیم متعارف کرائی گئی، جس سے لاکھوں صارفین مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفائنریز نے گزشتہ تین ماہ کے دوران غیر معمولی منافع کمایا، جو گزشتہ برسوں میں نہیں دیکھا گیا، اور اسی منافع کے پیش نظر ان سے تعاون کی درخواست کی گئی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا ابتدا سے یہی وژن رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کم سے کم بوجھ عوام پر ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے دنیا بھر کی معیشتوں کے ساتھ پاکستان کو بھی متاثر کیا، تاہم ملکی معاشی اشاریے مجموعی طور پر بہتر رہے۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ طے شدہ تھا، مگر وزیراعظم کی ہدایت پر یہ بوجھ ریفائنریز پر منتقل کیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک 15 ملین سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ اس اسکیم کے ذریعے صارفین کو اب تک 27 ارب روپے کے قریب ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ اسکیم کا دائرہ موٹر سائیکلوں، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیوں تک وسیع کیا گیا ہے، اور متعلقہ محکموں نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر قیمتوں کو طویل مدت تک مستحکم رکھنا چیلنج ہے۔ تاہم ریفائنریز کے ساتھ طے پانے والے تعاون نے ایک وقتی طور پر صارفین کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ فیول ریلیف اسکیم آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔










