around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 25°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 18°
ٹیکنالوجی

چین کے خفیہ خلائی طیارے شین لونگ کی پہلی واضح تصویر سامنے آگئی

امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کی رپورٹ میں چین کے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیارے شین لونگ کی واضح تصویر شامل کی گئی ہے، جو امریکی کمپنی میکسار کے سیٹلائٹ نے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے سے لی۔

around.pk·2h ago

چین کے خفیہ خلائی پروگرام سے وابستہ دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیارے شین لونگ کی پہلی واضح تصویر منظرعام پر آئی ہے۔ یہ تصویر امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں شامل کی گئی ہے، جسے امریکی کمپنی میکسار کے مصنوعی سیارے نے سنہ 2024 میں تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے سے کھینچا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تصویر میں 4.5 سینٹی میٹر فی پکسل تک کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔

شین لونگ کو ’خدائی اژدہا‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ ایک خودکار اور دوبارہ استعمال کے قابل طیارہ ہے، جسے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جاتا ہے اور مشن مکمل ہونے کے بعد یہ عام ہوائی جہاز کی طرح زمین پر اتر سکتا ہے۔ تصویر میں اس کے پچھلے حصے میں سامان رکھنے کا دروازہ کھلا اور شمسی پینل نصب دکھائی دیتے ہیں، جس سے ماہرین کو اس کی ساخت اور ممکنہ صلاحیتوں کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔

امریکی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی طیارہ خلا میں مختلف اشیا بھیجنے، ان کی آزمائش کرنے اور انہیں واپس لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنے سابقہ مشنز کے دوران کئی نامعلوم اشیا بھی خلا میں چھوڑی ہیں، تاہم ان کی اصل نوعیت اور مقصد اب تک واضح نہیں ہو سکا۔

شین لونگ کا ڈیزائن امریکی خلائی فوج کے بوئنگ ساختہ خفیہ طیارے ایکس 37 بی سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم چین نے اب تک اس طیارے کی کوئی سرکاری تصویر جاری نہیں کی اور نہ ہی اس کے مشنز کی مکمل تفصیلات فراہم کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس کا چوتھا خلائی مشن 7 فروری 2026 کو شروع ہوا تھا۔

خلائی ماہرین کے مطابق اس طرح کی تصاویر سے چین کے قابلِ استعمال خلائی طیارے کی تکنیکی صلاحیتوں اور اس کے مقاصد کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ پیش رفت عالمی خلائی دوڑ کے تناظر میں اہم ہے، جہاں امریکہ اور چین دونوں دوبارہ استعمال کے قابل خلائی نظاموں پر کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی خلائی سرگرمیوں کی تفصیلات عام طور پر محدود ہوتی ہیں، اور شین لونگ کے حوالے سے زیادہ تر معلومات غیر سرکاری ذرائع اور فلکیاتی مشاہدات سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس لیے اس کی نئی تصویر کو خلائی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں