کراچی کے شہریوں کا شہر کو الگ صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ
کراچی کے رہائشیوں نے بڑھتی ہوئی آبادی، خراب نکاسی آب اور عدم ترقی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام اور کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی کے شہریوں نے شہر میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور انتظامی مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو بھی الگ صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ مقامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی گلیوں اور محلوں میں کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آتا، نکاسی آب کی لائنیں خراب ہو چکی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر جمع ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے اور نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ کراچی کو بھی الگ صوبے کا درجہ دینا چاہیے۔
رہائشیوں نے شکایت کی کہ پورے شہر میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں، جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے جبکہ تعمیراتی کام کہیں نظر نہیں آتا۔ گندے پانی اور کچرے کی وجہ سے کراچی کے کئی علاقوں میں آمدورفت بھی مشکل ہو چکی ہے، جس سے عوام کو روزمرہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے شہر کے انتظامی ڈھانچے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی، جس کے باعث بلدیاتی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے دیرپا حل کے لیے انتظامی تبدیلیاں ناگزیر ہیں تاکہ شہر کی ترقی اور عوامی سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، جہاں ملکی صنعت، تجارت اور خدمات کا بڑا حصہ مرکوز ہے۔ شہر کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ماہرین طویل عرصے سے بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتے آ رہے ہیں۔
شہریوں کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں انتظامی تقسیم پر بحث جاری ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ نئے صوبے کے قیام یا انتظامی حدود میں تبدیلی کا حتمی اختیار قانون ساز اداروں کے پاس ہے اور اس نوعیت کے فیصلے آئینی اور قانونی عمل کے تحت کیے جاتے ہیں۔








