کھیل کے بعد بچی کی اچانک موت: کیا شدید جسمانی سرگرمی بچوں کے دل کے لیے خطرہ ہے؟
نئی دہلی میں کھیل کے دوران اچانک انتقال کے بعد ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ورزش بچوں کے لیے ضروری ہے، مگر پیدائشی دل کی بیماریوں کی بروقت شناخت اور انتباہی علامات پر توجہ دینا لازمی ہے۔

نئی دہلی کے علاقے میور وہار میں ایک نجی اسکول کی تیسری جماعت کی طالبہ کھیل کے پیریڈ کے بعد کلاس روم میں اچانک گر گئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق دل بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں اچانک دل کا رک جانا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے، مگر بعض صورتوں میں پیدائشی دل کی بیماری، دل کی دھڑکن کی موروثی خرابی یا دل کے پٹھوں کی بیماری جسمانی مشقت کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسی بیماریاں اکثر بچوں میں پہلے سے موجود ہونے کے باوجود ظاہر نہیں ہوتیں اور اسی لیے معمول کے معائنے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ عام کھیل کود اور ورزش بچوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری اور فائدہ مند ہے، اور اس واقعے کو بنیاد بنا کر بچوں کو کھیل سے روکنا درست حل نہیں۔ اصل توجہ خطرے کی علامات کی بروقت شناخت اور فوری طبی امداد تک رسائی کو یقینی بنانے پر ہونی چاہیے۔
انتباہی علامات میں ورزش کے دوران بے ہوشی، سینے میں درد، غیر معمولی سانس پھولنا، چکر آنا اور دل کی بے ترتیب دھڑکن شامل ہیں۔ اگر خاندان میں کم عمری میں اچانک موت یا موروثی دل کی بیماری کی تاریخ موجود ہو تو والدین کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرے کی قبل از وقت نشاندہی کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی بچہ اچانک بے ہوش ہو جائے، ردعمل نہ دے اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی خدمات کو مطلع کر کے سی پی آر شروع کرنا چاہیے اور سامان دستیاب ہونے کی صورت میں اے ای ڈی استعمال کرنا چاہیے۔ اسکولوں میں بنیادی طبی سہولتوں اور عملے کی تربیت کو بھی اس حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کھیل کے میدان اور اسکول دونوں جگہوں پر بچوں کی صحت کی نگرانی، والدین کی آگاہی اور فوری طبی مدد کی دستیابی کسی بھی بڑے خطرے کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔










