گلین میکسویل کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، 14 سالہ کیریئر کا اختتام
آسٹریلیا کے آل راؤنڈر گلین میکسویل نے 14 سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جنہوں نے دو ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہنے کے ساتھ ون ڈے کرکٹ میں غیر معمولی اسٹرائیک ریٹ بھی ریکارڈ کروایا۔

آسٹریلیا کے معروف آل راؤنڈر گلین میکسویل نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کا چودہ سال پر محیط بین الاقوامی کیریئر اختتام پذیر ہو گیا۔ 38 سالہ کھلاڑی پیر کے روز اس فیصلے کا اعلان کیا اور اس طرح وہ آسٹریلیا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے ایک اور سینئر کھلاڑی قرار پائے جنہوں نے بین الاقوامی میدان کو الوداع کہا۔
میکسویل کو کرکٹ کی دنیا میں ان کی جارحانہ بیٹنگ اور آف اسپن بولنگ کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ وہ آسٹریلیا کی اس ٹیم کا حصہ رہے جس نے دو مرتبہ ون ڈے ورلڈ کپ کا خطاب جیتا، جبکہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد انہوں نے پہلے ہی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ انہوں نے 149 ون ڈے، 130 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل اور سات ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔
ان کے کیریئر کی سب سے یادگار اننگز 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف سامنے آئی، جب آسٹریلیا نے 91 رنز پر سات وکٹیں گنوا دی تھیں۔ میکسویل نے اس مشکل موقع پر ناقابل شکست 201 رنز کی اننگز کھیلی اور پیٹ کمنز کے ساتھ 202 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کو 293 رنز کا ہدف عبور کرایا، جو ان کے بین الاقوامی کیریئر کا روشن باب سمجھا جاتا ہے۔
ون ڈے کرکٹ میں میکسویل نے 126 کے اسٹرائیک ریٹ سے 3,390 رنز بنائے جن میں چار سنچریاں اور 23 نصف سنچریاں شامل ہیں، جبکہ انہوں نے 77 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ان کا یہ اسٹرائیک ریٹ ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل کے بعد اس فارمیٹ میں دوسرا بہترین اسٹرائیک ریٹ قرار دیا جاتا ہے، جو ان کی جارحانہ بیٹنگ کے انداز کا واضح ثبوت ہے۔
ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں بھی میکسویل کی کارکردگی متاثر کن رہی، جہاں انہوں نے 154.42 کے اسٹرائیک ریٹ سے 2,897 رنز بنائے جن میں پانچ سنچریاں اور بارہ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے 2012 میں شارجہ میں افغانستان کے خلاف ون ڈے میچ سے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد سے آسٹریلیا کی محدود اوورز کرکٹ میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
میکسویل کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم کو محدود اوورز کی کرکٹ میں ان کی جگہ بھرنے کا چیلنج درپیش ہوگا، کیونکہ وہ مڈل آرڈر میں تیز رفتار بیٹنگ اور پارٹ ٹائم اسپن کے ذریعے ٹیم کو توازن فراہم کرتے تھے۔ ان کی بین الاقوامی کرکٹ سے واپسی پر کرکٹ مبصرین نے ان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جدید دور کے سب سے دلچسپ اور بے خوف بلے بازوں میں شمار ہوں گے۔











