around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 20°⛅ اسلام آباد 18°
پاکستان

گوادر کے ساحل پر 30 فٹ لمبی بلیو وہیل مردہ حالت میں پائی گئی

گوادر کے ساحل پر تقریباً 30 فٹ لمبی بلیو وہیل مردہ حالت میں ملی ہے۔ یہ وہیل گزشتہ دو روز سے سمندر میں تیرتی دیکھی جا رہی تھی اور بدھ کے روز لہروں کی زد پر ایسٹ بے کے ساحل پر پہنچی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

around.pk·1h ago

گوادر کے ساحل پر دنیا کی سب سے بڑی آبی مخلوق شمار ہونے والی بلیو وہیل مردہ حالت میں ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 30 فٹ لمبی یہ وہیل گزشتہ دو روز سے گوادر کے سمندر میں مختلف مقامات پر تیرتی ہوئی دیکھی جا رہی تھی، تاہم بدھ کے روز سمندری لہریں اسے گوادر ایسٹ بے کے ساحل کے قریب لے آئیں جہاں اس کا بے جان جسم پایا گیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سمندری حیات کے تحفظ سے منسلک اداروں نے بھی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق کسی بڑی وہیل کی ہلاکت سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے تشویشناک امر ہے۔ ابتدائی طور پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہیل سمندر کے کم گہرے پانی میں داخل ہو گئی تھی، جس سے اس کی سمت شناسی متاثر ہوئی اور وہ راستہ بھٹک کر ساحل کے قریب پہنچ گئی۔

محمد معظم خان نے بتایا کہ وہیل کی ہلاکت کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارہ ملک کے ساحلی علاقوں میں ساحل پر پھنسنے والی وہیلز کا ریکارڈ بھی مرتب کرتا ہے اور نایاب سمندری حیات کے تحفظ کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے اقدامات کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ماضی میں بھی بلیو وہیل سمیت بڑی وہیلز کے ساحل پر پھنسنے اور مردہ حالت میں ملنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اپریل 2019 میں گوادر کے ساحل پر تقریباً 34 فٹ لمبی وہیل مردہ حالت میں ملی تھی، جبکہ مئی 2023 میں جیوانی کے علاقے بندری میں تقریباً 42 فٹ لمبی مردہ وہیل ساحل پر آئی تھی۔ اسی سال نومبر میں پسنی کے قریب 27 فٹ لمبی برائیڈز وہیل بھی مردہ حالت میں برآمد ہوئی، جبکہ جون 2024 میں گوادر کے علاقے کنتانی کے قریب سمندر میں تقریباً 35 فٹ لمبی وہیل مردہ حالت میں تیرتی ہوئی پائی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق بلیو وہیل دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے جو جسامت اور وزن کے اعتبار سے کرہ ارض پر موجود تمام جانداروں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ دراصل مچھلی نہیں بلکہ ممالیہ جانور ہے، اسی لیے اسے سانس لینے کے لیے وقفے وقفے سے سمندر کی سطح پر آنا پڑتا ہے۔ یہ کرل نامی انتہائی چھوٹے سمندری جانداروں کو اپنی خوراک بناتی ہے اور اندازے کے مطابق 80 سے 90 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتی ہے۔

بلیو وہیل کو عالمی سطح پر خطرے سے دوچار انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بڑے پیمانے پر تجارتی شکار کے باعث اس کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی، جبکہ موجودہ دور میں سمندری آلودگی، ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے، بحری جہازوں سے ٹکراؤ اور دیگر خطرات بھی اس نایاب مخلوق کی بقا کو لاحق ہیں۔ گوادر کے ساحل پر پیش آنے والا یہ تازہ واقعہ پاکستان کے سمندری ماحولیاتی نظام اور نایاب آبی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں