اسرائیل امداد پر ٹرمپ کے بیان اور ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ کے ردعمل نے امریکی سیاست میں بحث چھیڑ دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کو امداد روکنے کے بیان پر ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ نے کہا ہے کہ یہ رویہ 'بلیو سونامی' کے خدشے کو ظاہر کرتا ہے، جس نے امریکی سیاست میں اسرائیل امداد کے معاملے پر پارٹی اختلافات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ اربوں ڈالر کی امداد بند کرنے کے حوالے سے بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رو کھنہ نے کہا کہ ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے ڈیموکریٹس کی ممکنہ بڑی انتخابی کامیابی سے پیدا ہونے والے خدشے کا اظہار کر رہے ہیں۔
رو کھنہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ٹرمپ کا اسرائیل کی مالی امداد روکنے کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ وہ 'بلیو سونامی' کو روکنے کے لیے بے چین ہیں۔ امریکی سیاسی گفتگو میں 'بلیو سونامی' کی اصطلاح ڈیموکریٹک پارٹی کی زبردست انتخابی کامیابی کے امکان کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
رکن کانگریس نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی رہنماؤں نے، جنہیں دو مرتبہ ٹرمپ کے ہاتھوں انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا، ماضی میں اسرائیل کی امداد روکنے کے مطالبے کو انتہائی سخت مؤقف قرار دیا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ اب خود ٹرمپ نے یہی راستہ اختیار کر کے دکھا دیا ہے۔
رو کھنہ نے اپنی پوسٹ میں اسرائیل کے حوالے سے تنقیدی مؤقف رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنماؤں، جن میں برنی سینڈرز اور زہران ممدانی شامل ہیں، کو بھی ٹیگ کیا۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی امداد کا معاملہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی مختلف آراء اور بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ٹرمپ کے بیان اور رو کھنہ کے ردعمل نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد اور اس حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت آنے والے انتخابی منظرنامے میں اسرائیل امداد کے معاملے کو ایک اہم بحث بنا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کی امداد کا معاملہ برسوں سے زیر بحث رہا ہے، اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اس حوالے سے متضاد مؤقف اختیار کیے ہیں۔ ٹرمپ کے تازہ بیان نے اس بحث کو ایک نئے مرحلے میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔











