around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

ایران کی پاسداران انقلاب کی دھمکی: امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب جغرافیائی حدود سے آگے بڑھے گا

پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی جارحیت کا جواب جغرافیائی حدود سے بڑھ کر دیا جائے گا، اور ایران نے نئے اہداف اور نئے علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی اپنے ایجنڈے میں شامل کر لی ہے۔

around.pk·2h ago

ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں ایران کے جواب کی کوئی جغرافیائی حد مقرر نہیں ہوگی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہیں اور فریقین کے مابین بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

جنرل محبی نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ دشمن کی کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے بڑھ کر جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے اور مکمل دفاعی صلاحیت کے حصول کے لیے وسیع عملی دائرہ کار تیار کیا گیا ہے، جبکہ نئے اہداف کی نشان دہی اور نئے جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

ترجمان کے مطابق ایرانی مسلح افواج دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہیں، اور امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے اور ایران کو تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اور اب وہ مذاکرات اور ثالثی کی طرف رجوع کر رہا ہے۔

جنرل محبی نے کہا کہ دنیا کی بڑی ترین بحریہ رکھنے اور کئی دہائیوں سے خطے میں فوجی موجودگی کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز کو چند گھنٹوں کے لیے بھی کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی فوجی اڈے جو خطے میں سلامتی کی ضمانت بتائے جاتے تھے، آج میزبان ممالک کے لیے عدم تحفظ کا سبب بن چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف محاذ پر امریکا کے انٹیلی جنس برتری کے دعوے کی بنیاد متزلزل ہو چکی ہے اور معاشی میدان میں بھی واشنگٹن کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے بقول اس صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا ناقابل تسخیر نہیں اور وہ اپنے دفاع کے حوالے سے بھی چیلنجز کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے قطر کے ذریعے امریکا سے بالواسطہ مذاکرات کا اشارہ بھی دیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی یا اضافے کا انحصار آنے والے دنوں میں فریقین کے رویے پر ہوگا۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں