around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 32°☀ لاہور 28°⛅ اسلام آباد 25°
دنیا

ایران کے حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو بھاری نقصان، تعمیرِ نو پر اربوں ڈالر کا خرچہ

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی مقامات پر 274 عمارتیں اور ڈھانچے متاثر ہوئے، جن کی تعمیرِ نو پر کم از کم 4 ارب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

around.pk·3h ago

ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس نے واشنگٹن کے لیے اربوں ڈالر کے اضافی مالی بوجھ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ان فوجی تنصیبات کی تعمیرِ نو پر کم از کم 4 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں، جبکہ پینٹاگون کے اندازوں کے مطابق مجموعی نقصان 5 سے 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر، ایرانی بیانات اور امریکی حکام سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ تنازعے کے پہلے چھ ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کے 24 امریکی فوجی مقامات پر 274 عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔ متاثرہ ڈھانچوں میں فوجیوں کی رہائش گاہیں، ہینگرز، گودام، مواصلاتی مراکز، ایندھن کی تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں میں ابتدا میں امریکی ابتدائی وارننگ ریڈارز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طیاروں، ہینگرز اور فوجی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حکمتِ عملی نے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو وقتی طور پر کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے تجزیے کے مطابق اگست تک ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کیے گئے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں میں 26 امریکی فوجی اڈے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ ان حملوں کی شدت نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے تحفظ اور لاجسٹکس پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق تعمیرِ نو کے وسیع اخراجات نہ صرف امریکی دفاعی بجٹ پر دباؤ ڈالیں گے بلکہ فوجی تیاری اور آپریشنل صلاحیتوں کو بحال کرنے کے عمل کو بھی متاثر کریں گے۔ اس صورتحال نے خطے میں فوجی حکمتِ عملی اور دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور تجزیوں پر مبنی ہیں، جبکہ بعض اعداد و شمار کے حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔ صورتحال کے مزید پہلوؤں پر دستیاب معلومات کے مطابق تجزیہ جاری ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں