تحقیق: انسانی جسم ہر سال دو ارب ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہا ہے
یونیورسٹی آف باتھ کی تحقیق کے مطابق انسانی میٹابولزم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 30 سال میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2015 تک 2.05 ارب میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ گئی۔

ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم کے میٹابولزم کے دوران خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار گزشتہ تین دہائیوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ یونیورسٹی آف باتھ کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق جسم میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 30 سال کے دوران 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جرنل دی لانسیٹ پلینٹیری ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 1985 میں انسانی جسموں سے سالانہ تقریباً 1.18 ارب میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی تھی، جو 2015 تک بڑھ کر 2.05 ارب میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ گئی۔ محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار زمین کے کاربن سائیکل کے ایک اہم حصے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کی اس پیمانے پر پہلے سائنسی پیمائش نہیں کی گئی تھی۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس اضافے کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ دنیا کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہے، جبکہ باقی فرق غذائی عادات اور میٹابولک شرح میں تبدیلیوں سے منسلک ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسانی سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مجموعی مقدار بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ انسانی سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کوئلے، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیولز کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیس کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انسانی جسم سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ تر اس کاربن سے بنتی ہے جو پودے حال ہی میں فضا سے جذب کرتے ہیں اور خوراک کے ذریعے جسم میں پہنچتا ہے، اس لیے یہ فعال کاربن سائیکل کا حصہ رہتی ہے۔
اس کے برعکس فوسل فیولز میں لاکھوں سال سے زمین کے اندر محفوظ کاربن جلنے کے بعد فضا میں شامل ہوتا ہے، جس سے کاربن سائیکل میں اضافی مقدار داخل ہوتی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی شدت بڑھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق ماحولیاتی پالیسی سازی کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ انسانی سانس کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تحقیق اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس نے پہلی بار عالمی سطح پر انسانی میٹابولزم سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تفصیلی تخمینہ پیش کیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ آبادی اور غذائی نظام سے جڑے عوامل کو سمجھنے سے مستقبل میں کاربن کے عالمی توازن اور صحت عامہ سے متعلق پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔











