سعودی کابینہ کا قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں مملکت کی خودمختاری اور عوامی تحفظ کے تحفظ کے عزم کا اعادہ، عالمی توانائی کی فراہمی اور سمندری راستوں کی حفاظت پر بھی زور۔

سعودی عرب کی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے یا شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ یہ اعلان ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں خطے اور عالمی سطح کی تازہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سعودی قیادت نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کے سمجھوتے نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود مملکت اپنی سلامتی کے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی، اور دوست ممالک کے ساتھ قریبی رابطوں اور سفارتی تعاون کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششیں بھی جاری رہیں گی۔
اجلاس کے آغاز میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ملائیشیا کے بادشاہ سلطان ابراہیم اسکندر کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات سے کابینہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو بھیجے گئے اپنے پیغام کی تفصیلات بھی پیش کیں، جبکہ جنوبی کوریا، رومانیہ اور اسپین کے حکام سے ٹیلی فونک رابطوں اور اردن کے ولی عہد سے ملاقات کے نتائج سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری کے مطابق کابینہ نے خلیج تعاون کونسل اور گروپ 20 کے تحت ہونے والے اجلاسوں میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مملکت عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے سفارتی اور ترقیاتی کوششیں جاری رکھے گی۔
کابینہ نے سمندری راستوں میں جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سمندری تحفظ یقینی بنانے، بین الاقوامی تجارت کی بلا تعطل ترسیل برقرار رکھنے اور متعلقہ عالمی قوانین پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کرے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب عالمی منڈیوں کو قابل اعتماد انداز میں توانائی فراہم کرتا رہا ہے اور اس نے توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو ہمیشہ اولین ترجیح قرار دیا ہے۔











