around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
ٹیکنالوجی

پاکستان نیوی وار کالج کی میری ٹائم کانفرنس اختتام پذیر، مقامی دفاعی ٹیکنالوجی پر زور

بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کا اختتام؛ نیول چیف نے مقامی سطح پر جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری اور تعلیمی، صنعتی و عسکری شعبوں کے تعاون پر زور دیا۔

around.pk·1h ago

پاکستان نیوی وار کالج کے میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلینس کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، جس میں جدید ٹیکنالوجیز اور قومی دفاعی نظام کی ترقی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ کانفرنس بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی اختتامی تقریب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

کانفرنس میں اعلیٰ عسکری قیادت، پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم اور طلبہ کی نمایاں موجودگی رہی۔ شرکاء نے جدید جنگی رجحانات، بحرِ ہند میں طاقت کے توازن اور دفاعی ٹیکنالوجی کے بدلتے تقاضوں سمیت متعدد اہم موضوعات پر گفتگو کی اور ان سے نمٹنے کے لیے ممکنہ حکمت عملیوں کا جائزہ لیا۔

کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت، کمپیوٹیشنل سائنس اور بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) کے انسداد سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز خصوصی تبادلہ خیال کا موضوع رہیں۔ ماہرین نے ان شعبوں میں خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں مقامی صلاحیتوں کی مضبوطی دفاعی استعداد کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

کانفرنس میں مقامی بحری دفاعی نیٹ ورک کی ترقی کے لیے تعلیمی، صنعتی اور عسکری شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان تینوں شعبوں کے مشترکہ تعاون سے نہ صرف تحقیق و ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ دفاعی ضروریات کے لیے درکار جدید آلات کی مقامی تیاری بھی ممکن ہو سکے گی۔

نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے اختتامی تقریب سے خطاب میں مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی نظام کے لیے ٹیکنالوجی میں خود کفالت ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مستقل رابطہ اور علم کا تبادلہ ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اس طرح کی کانفرنسیں دفاعی شعبے میں تحقیق، جدت اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کا اہم ذریعہ تصور کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مقامی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو دفاعی منصوبوں سے جوڑنے سے نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت اور معاشی ترقی کو بھی تقویت ملتی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں