around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 34°☀ لاہور 29°⛅ اسلام آباد 27°
کاروبار

پاکستان نے چاول برآمدات میں ویتنام کو پیچھے چھوڑ کر عالمی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کر لی

ستمبر 2026 میں پاکستان نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیے جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں، جبکہ پہلی سہ ماہی میں حجم میں 51 فیصد اور زرمبادلہ میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

around.pk·2h ago

پاکستان نے چاول کی برآمدات کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ ستمبر 2026 کے دوران ملک نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جبکہ اس شعبے میں دنیا کے تیسرے بڑے برآمد کنندہ سمجھے جانے والے ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن تک محدود رہیں۔ اس کارکردگی کے باعث پاکستان نے اس ماہ ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی بحری راستوں کی رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اور سمندری راستوں کی مشکلات کے باوجود عالمی منڈی میں پاکستانی باسمتی چاول کی طلب برقرار رہی، جس نے برآمدات کو سہارا دیا۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 تک پاکستان کی چاول برآمدات کے حجم میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں اس شعبے سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں بھی 37 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ملکی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق چاول پاکستان کی اہم ترین زرعی برآمدات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی برآمدات نہ صرف زراعت سے وابستہ لاکھوں افراد کی معاش کو مستحکم کرتی ہیں بلکہ قومی معیشت میں قیمتی زرمبادلہ کا اضافہ بھی کرتی ہیں۔ عالمی منڈی میں پاکستانی باسمتی کی مسلسل طلب اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت کا مظہر ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بحری تجارت کی رکاوٹوں اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود پاکستان کی برآمدی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اضافے کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے معیار، پیداواری صلاحیت اور برآمدی سہولیات پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

چاول کی برآمدات میں یہ بہتری پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے اور اسے عالمی تجارتی منڈی میں ملک کی پوزیشن مضبوط ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

نوٹ: اس رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار خبر رساں ذرائع کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں