around.pk
Sunday, 1 November 2026
☀ کراچی 24°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
پاکستان

پنجاب میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کا انکشاف، اربوں روپے مالیت کی زمین واگزار

آڈٹ رپورٹ میں محکمہ زراعت کی 541 ایکڑ سے زائد اراضی پر غیرقانونی قبضے کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ نیب اور بورڈ آف ریونیو نے 25 ہزار 444 کنال سرکاری زمین واگزار کرائی ہے، جس کی مالیت 433 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

around.pk·1h ago

پنجاب میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں، غیرقانونی الاٹمنٹس اور ریونیو ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کے سنگین معاملات سامنے آئے ہیں۔ صوبے کے مختلف محکموں کی ہزاروں ایکڑ اراضی غیرقانونی قبضوں، عدالتی مقدمات اور ملکیتی تنازعات کی زد میں ہے۔

سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت کی 541 ایکڑ سے زائد اراضی پر غیرقانونی قبضے یا عدم واگزاری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلات نے گزشتہ دو برسوں کے دوران 1,984 ایکڑ سے زیادہ اراضی واگزار کرائی، جبکہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے متعلق رپورٹ میں 14 ہزار 574 مرلے اراضی کے بدستور قبضے میں ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

نیب اور پنجاب بورڈ آف ریونیو کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران جون 2026 تک صوبے میں 25 ہزار 444 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی تخمینی مالیت 433 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے کی گئی کارروائیوں کی کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سرکاری اراضی پر قبضوں کا یہ سلسلہ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی منصوبوں کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ ریونیو ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور غیرقانونی الاٹمنٹس کے معاملات زمین کی ملکیت کے تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

متعلقہ محکموں کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قبضہ جاتی زمین کی بازیابی کا عمل جاری ہے، تاہم بیشتر اراضی اب بھی قبضوں اور قانونی تنازعات کی زد میں ہے۔ سرکاری املاک کے تحفظ اور شفاف ریکارڈ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں