کراچی میں ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ملزمان گرفتار
ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے کراچی کی جامع کلاتھ مارکیٹ میں چھاپہ مار کر حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث دو افراد کو گرفتار کرلیا، جن کے قبضے سے 25 لاکھ روپے نقدی اور ڈیجیٹل آلات برآمد ہوئے ہیں۔

کراچی میں غیر قانونی کرنسی کے کاروبار کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسٹیٹ بینک سرکل نے ایک اور کامیاب چھاپہ مارا ہے، جس کے نتیجے میں حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورک سے منسلک دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون منتظر مہدی کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔
ترجمان کے مطابق گلاس ٹاور کے قریب واقع جامع کلاتھ مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ پر چھاپہ مار کر الطاف احمد اور محمد ندیم کو حراست میں لیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 25 لاکھ روپے نقدی کے علاوہ ڈیجیٹل آلات اور دیگر شواہد بھی برآمد کیے گئے، جو تحقیقاتی ٹیم کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں گرفتار ملزمان حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار میں براہ راست ملوث تھے اور موقع پر پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے اس کاروبار میں شمولیت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (2020 میں ترمیم شدہ) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حوالہ ہنڈی کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی منتقلی نہ صرف زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے یہ کارروائی ایسے نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی کرنسی کے لین دین اور منی لانڈرنگ کے راستوں کو بند کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی سے تفتیشی ٹیم کو نیٹ ورک کے دیگر کارندوں اور بین الاقوامی رابطوں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ شروع کر دی ہے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کے کاروبار کے خلاف عوامی سطح پر آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، جس میں شہریوں کو قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایف آئی اے کا یہ کریک ڈاؤن ایسے ہی غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف ملکی سطح پر جاری کوششوں کا تسلسل ہے۔









