around.pk
Wednesday, 4 November 2026
☀ کراچی 29°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 19°
پاکستان

سندھ پولیس کی غلطی: شہری کا شناختی کارڈ ہم نام ملزم کے 29 مقدمات سے منسلک، عدالت نے ریکارڈ طلب کرلیا

پاک کالونی پولیس نے ایک شہری کا شناختی کارڈ نمبر اس کے ہم نام عادی ملزم سے منسوب کر دیا، جس کے باعث 29 مقدمات کا ریکارڈ شہری کے نام پر درج ہو گیا، شناختی کارڈ بلاک اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے۔ سندھ ہائیکورٹ نے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

around.pk·2h ago

سندھ ہائیکورٹ میں ایک ایسے شہری کی درخواست کی سماعت ہوئی جس کا شناختی کارڈ نمبر پولیس نے اس کے ہم نام ایک عادی ملزم کے ریکارڈ سے منسوب کر دیا، جس کے نتیجے میں شہری کو سنگین قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ درخواست گزار کے وکیل جہانگیر شمس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاک کالونی پولیس نے ان کے موکل کے شناختی کارڈ نمبر کو ایک ہم نام ملزم سے جوڑ دیا، جس کی وجہ سے 29 مقدمات کا ریکارڈ ان کے نام پر درج ہو گیا۔

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شناختی کارڈ نمبر کی اس غلط اندراج کے باعث درخواست گزار کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور ان کا شناختی کارڈ بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ ریکارڈ میں اس اندراج کی وجہ سے شہری کو ایک ہفتے تک پولیس حراست میں بھی رکھا گیا، جبکہ درخواست گزار نے پولیس حکام کو ریکارڈ کی درستی کے لیے متعدد بار رجوع کیا، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ نمبر ملزم کے ریکارڈ سے علیحدہ کیا جائے تاکہ اسے مزید قانونی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے نام پر درج مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور معاملے کی مزید سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ واقعہ ملک میں شناختی ریکارڈ اور پولیس ڈیٹا کے اندراج کے عمل میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شناختی کارڈ نمبر کسی شہری کے نام، ولدیت اور پتے جیسے بنیادی تفصیلات سے منسلک ہوتا ہے، اور اگر ایک ہی نام کے دو افراد کا ریکارڈ درست طریقے سے الگ نہ کیا جائے تو معصوم شہری بھی مقدمات اور وارنٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے جدید ڈیجیٹل نظام میں شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے ملزم کی شناخت کی جاتی ہے، لیکن اس کے لیے تصدیق کے اضافی مراحل ناگزیر ہیں۔ اگر محکمہ پولیس اور نادرا کے ریکارڈ کے درمیان ہم آہنگی اور درستی کا نظام مضبوط نہ ہو تو اس طرح کی غلطیاں عام شہریوں کے لیے طویل قانونی جدوجہد اور حراست کا سبب بن سکتی ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ریکارڈ طلب کرنے کا اقدام اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ عدالتی سماعت کے دوران یہ واضح ہو جائے گا کہ غلط اندراج کی ذمہ داری کس کی ہے اور درخواست گزار کا ریکارڈ ملزم سے علیحدہ کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے مقدمات شہری حقوق اور پولیس کے ریکارڈ کی درستی کے حوالے سے اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں