ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کو روکا نہ جاتا تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ موجود نہ ہوتے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے اقدامات کی وجہ سے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ محفوظ ہیں، جبکہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا بھی اعلان کیا۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل اور پورا مشرق وسطیٰ موجود نہ ہوتا۔ انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے جسے سب جانتے ہیں، تاہم کھل کر اس کا اعتراف کوئی نہیں کرنا چاہتا۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کی عوامی سطح پر پذیرائی نہ ملنے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی بھاری شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مانا تھا کہ ریپبلکنز کی انتخابی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ تنازعہ تھی۔
اس حوالے سے ایرانی حکام کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق امریکا سے نئی سفارت کاری شروع کرنے سے قبل تحریری وعدوں کے بجائے عملی اقدامات درکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر کے ذریعے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک تجویز امریکا کو بھیجی جا چکی ہے، جس کا اعلان ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کیا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک اور بیان میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وائٹ ہاؤس کے موجودہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر 9 نومبر 2026 سے چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ انہوں نے اسٹیفن ملر کو اپنا قابلِ اعتماد مشیر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ چیف آف اسٹاف سوسی وائلز آئندہ سیاسی امور کے شعبے میں ذمہ داریاں ادا کریں گی۔
صدر ٹرمپ نے سوسی وائلز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چیف آف اسٹاف کے طور پر بہترین کام کیا ہے۔ ان تقرریوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایران سے متعلق پیش رفت اور عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں کے اثرات زیر بحث ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے جوہری معاملے پر جاری سفارتی کوششیں اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل عالمی معیشت اور خطے کی سلامتی دونوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق اس تنازعے میں کشیدگی میں کمی سے توانائی کی عالمی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔










