around.pk
Saturday, 7 November 2026
☀ کراچی 28°☀ لاہور 23°☀ اسلام آباد 19°
کاروبار

پاکستان کا تجارتی خسارہ پہلے چار ماہ میں 14.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں تجارتی خسارہ 16 فیصد بڑھ کر 14.6 ارب ڈالر ہو گیا، جس کی بڑی وجہ درآمدات میں تیز اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار ترقی ہے۔

around.pk·15h ago

پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ یعنی جولائی سے اکتوبر کے دوران 16 فیصد کے اضافے کے ساتھ 14 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں تقریباً دو ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس بڑھتے ہوئے خسارے کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیز رفتار اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار ترقی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں درآمدات 26 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دو ارب 90 کروڑ ڈالر یا 12.5 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس برآمدات میں صرف معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور مجموعی برآمدات 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں صرف 89 کروڑ ڈالر زیادہ ہیں۔ اس دوران ماہانہ اوسط درآمدات 6.5 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 2.8 ارب ڈالر رہیں۔

تجارتی خسارے میں اضافے کے یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب سے مزید تین ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع مل گئی ہے۔ سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک کو بیرونی قرضوں کی مد میں ادائیگیاں کرنی ہیں، تاہم حکومت دو طرفہ اور کمرشل قرضوں کی مدت میں توسیع حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور زر مبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نئے غیر ملکی قرضوں کی تلاش میں بھی ہے۔

وزیراعظم نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ آئی ایم ایف کا 25واں پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا، جو آئندہ ستمبر میں مکمل ہونے جا رہا ہے، تاہم اس دعوے کی عملی آزمائش آنے والے برسوں میں ہو گی۔ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے دوران درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے، جس کی بڑی وجہ توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافے کا امکان بتایا جا رہا ہے۔

حکومت نے رواں مالی سال کے لیے اشیا کی برآمدات کا ہدف 34 ارب ڈالر مقرر کیا ہے اور برآمدات میں اضافے کے لیے بڑے برآمد کنندگان کو سستے قرضے فراہم کرنے کی غرض سے بجٹ میں 88 ارب روپے کی سبسڈی بھی مختص کی ہے۔ تاہم ماضی میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی بھی برآمدات کو خاطر خواہ فروغ دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق مستقبل میں آئی ایم ایف پروگراموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانا ضروری ہے، جبکہ حکومت کی تجارتی آزادکاری کی پالیسی بھی تاحال برآمدات میں متوقع اضافہ لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ملک کے بیرونی قرضوں پر انحصار اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر انحصار میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں برآمدی شعبے کی پیداواری صلاحیت بڑھانا، درآمدی متبادل صنعتوں کو فروغ دینا اور توانائی کے اخراجات کو کم کرنا طویل المدتی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

اب تک کی کہانی قرض اور قرضے

  1. سعودی عرب کے بعد چین اور کویت کی بھی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
  2. وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: 104 ارب روپے کے رہائشی قرضے جاری، 17,697 خاندان مستفید
  3. شام اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ، 403 ملین ڈالر کے قرضوں پر بھی اتفاق
  4. سعودی عرب کے ساتھ 3 ارب ڈالر قرض کی رول اوور مکمل، مزید سپورٹ کی ضرورت نہیں: وزیر خزانہ
پوری ٹائم لائن دیکھیں →

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں