قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی خبروں کی تردید کر دی
قطری میڈیا آفس نے واضح کیا ہے کہ وزیرِاعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور امریکا و ایران کے درمیان معاہدے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
قطر کے میڈیا آفس نے امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے عدمِ حصول سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق اب بھی ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا آفس کے مطابق گزشتہ دنوں سامنے آنے والی رپورٹس میں قطر کے وزیرِاعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک جامع معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی کامل معاہدے کے انتظار میں رہنے کے بجائے ایک اچھے معاہدے کو قبول کریں۔ اس بیان کو بعد ازاں کچھ حلقوں کی جانب سے اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا مذاکراتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔
قطری میڈیا آفس نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیرِاعظم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ معاہدے کی کوششیں ختم ہو چکی ہیں، بلکہ انہوں نے دونوں فریقوں کو ایک حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل معاہدے کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا آفس کے مطابق بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا غلط فہمی کا سبب بنا، جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
قطر نے حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اور علاقائی سطح پر اسے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق قطر کی جانب سے بیانات کی وضاحت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والی ابہام کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے بھی اس حوالے سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ نئی سفارت کاری سے قبل تحریری وعدوں کے بجائے عملی اقدامات درکار ہیں۔ دوسری جانب قطر کے ذریعے جوہری معاملات سے متعلق تجویز امریکا کو بھیج دی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی رابطے اب بھی فعال ہیں اور دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے حل کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے حساس سفارتی معاملات میں بیانات کی درست تشریح انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، کیونکہ غلط تشریح سے نہ صرف مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے بلکہ علاقائی استحکام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ قطری میڈیا آفس کی وضاحت کے بعد اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ معاہدے کی کوششیں جاری ہیں اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
اب تک کی کہانی قطر
- ایران کا قطر کے ذریعے جوہری معاملات پر تجاویز امریکا کو بھیجنے کا انکشاف
- قطر کے امیر اور صدر ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو، خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز
- مدینہ منورہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کی کوشش، خلیجی ممالک کی حوثیوں کی مذمت
- قطر کے قریب آئل ٹینکر پر دو گولہ نما اشیا سے حملہ، بحری سلامتی کے خدشات بڑھ گئے










