پیراگوئے: بینک بحران کے بعد صدر مواخذے کے ذریعے عہدے سے برطرف
پیراگوئے کی سینیٹ نے جمعہ کو صدر سینتیاگو پینا کا مواخذہ کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا۔ یہ اقدام یوئینو بینک کے مالی بحران اور بینک کے معاملات میں مبینہ مداخلت کے الزامات کے بعد سامنے آیا، جس کے باعث تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی سے محروم ہو گئے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
پیراگوئے میں ایک بڑے ڈیجیٹل بینک کے مالیاتی بحران نے سیاسی بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ ملکی سینیٹ نے جمعہ، 6 نومبر کو صدر سینتیاگو پینا کے خلاف مواخذے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا۔ رائے شماری میں موجود تمام 44 سینیٹرز نے برطرفی کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک سینیٹر اجلاس میں شریک نہیں تھا۔
سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے بینک کے مالی معاملات میں مداخلت کی، اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور مفادات کے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کی۔ مواخذے کے چند ہی منٹ بعد حکام نے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ کارروائی ملکی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔
بحران کی ابتدا اس وقت ہوئی جب پیراگوئے کا بڑا ڈیجیٹل بینک ’یوئینو بینک‘ مالی مشکلات اور مقررہ سرمایہ جاتی تقاضے پورے نہ کرنے کے باعث مرکزی بینک کی کارروائی کی زد میں آ گیا۔ حکام نے 3 نومبر کو بینک کا انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا، جس کے بعد تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس، بچتوں اور بینک کارڈز تک رسائی سے محروم ہو گئے۔
یہ تعداد ملک کے تقریباً 60 فیصد بالغ شہریوں کے برابر بتائی جاتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بینک کے بحران کا اثر کتنا وسیع ہے۔ رپورٹس کے مطابق بینک میں سرکاری اداروں اور پنشن فنڈز کی بھی سینکڑوں ملین ڈالر کی رقوم موجود تھیں، جس نے معاملے کی حساسیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ چھوٹی معیشتوں میں ڈیجیٹل بینکنگ کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس سے وابستہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد کے لیے اپنی بچتوں تک رسائی کا ختم ہونا ایک سنگین سماجی و معاشی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے حکومت کو شفاف اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
پیراگوئے کی پارلیمنٹ نے آئینی طریقہ کار کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کا عمل مکمل کیا، جسے جمہوری اداروں کی مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اب ملکی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بینکنگ نظام میں اعتماد بحال کرنا اور متاثرہ صارفین کے فنڈز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اب تک کی کہانی سینیٹ
- سینیٹ کمیٹی نے گیس کمپنیوں سے 20 سال کی رائلٹی کی تفصیلات طلب کر لیں
- امریکی مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی واضح برتری، چند حلقوں میں گنتی اب بھی جاری
- سینیٹر کامران مرتضیٰ کی تحریک استحقاق: گھر پر 40 افراد کے حملے اور خواتین و بچوں کی ہراسانی کا انکشاف
- انتخابی اصلاحات کمیٹی: ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو دو دو نشستیں دینے کا فیصلہ










