around.pk
Saturday, 7 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
کاروبار

اکتوبر میں پانچ ہزار سے زائد نئی کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن، ایس ای سی پی

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق اکتوبر 2026 میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد آئی ٹی اور ٹریڈنگ شعبوں کی ہے۔

around.pk·9h ago

پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیے گئے ڈیجیٹل اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران ملک بھر میں ریکارڈ 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان نئی رجسٹریشنز کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 794 تک پہنچ گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل اب تقریباً مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے اور 99.9 فیصد رجسٹریشن آن لائن مکمل کی گئیں، جس سے کاروبار شروع کرنے کے عمل میں نمایاں آسانی پیدا ہوئی ہے۔

نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کی ساخت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 55.4 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں جبکہ 41.6 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں ہیں۔ صوبائی تقسیم کے مطابق پنجاب میں 2663، اسلام آباد میں 934، سندھ میں 751 اور خیبرپختونخوا میں 382 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

شعبوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اکتوبر میں سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 991 رجسٹرڈ ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ کے شعبے میں 767 اور سروسز کے شعبے میں 594 کمپنیوں نے رجسٹریشن مکمل کروائی۔ آئی ٹی شعبے کی سرفہرست حیثیت اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کاروبار کی جانب رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق رجسٹریشن کے اس عمل میں تیزی اور شفافیت حکومت کی جانب سے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آسان اور آن لائن دستیاب طریقہ کار کی وجہ سے نوجوان کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس بھی باقاعدہ کمپنی رجسٹرڈ کروا کر اپنے کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

ایس ای سی پی کی جانب سے جاری اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں کاروباری اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو مستحکم رکھنے کے لیے ٹیکس نظام میں آسانی، فنانسنگ تک رسائی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کے خاتمے جیسے اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ رسمی شعبے میں کاروبار کی آمد سے روزگار کے مواقع بڑھنے اور ٹیکس بیس میں وسعت کی توقع کی جاتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی کارکردگی اور کمپلائنس پر بھی مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ کاغذی کارروائی تک محدود کاروبار کے رجحان کو روکا جا سکے۔

اب تک کی کہانی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان

  1. ایس ای سی پی نے حج ٹور آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے
پوری ٹائم لائن دیکھیں →

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں