اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر اختر عباس کو فارمیسی کونسل کا اضافی چارج دینے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے دیا
عدالت نے قرار دیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 کے تحت سیکرٹری کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری اور مخصوص پیشہ ورانہ اہلیت لازمی ہے، جبکہ اضافی چارج صرف اسی ملازم کو دیا جا سکتا ہے جو کونسل میں مساوی عہدے پر فائز ہو۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر محمد اختر عباس خان کو سیکرٹری فارمیسی کونسل کا اضافی چارج دینے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے فضل اللہ فاروق کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ 15 جنوری 2026 کا مذکورہ نوٹیفکیشن کسی ضابطے کے بغیر جاری کیا گیا تھا اور قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔
فیصلے کے مطابق فارمیسی ایکٹ 1967 کے تحت سیکرٹری کی تقرری کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری اور مخصوص پیشہ ورانہ اہلیت لازمی شرط ہے۔ عدالت نے کہا کہ سروس بائی لاز 2023 کے تحت کسی خالی عہدے پر اضافی چارج صرف اسی ملازم کو سونپا جا سکتا ہے جو متعلقہ ادارے میں مساوی عہدے پر تعینات ہو، تاہم ڈاکٹر محمد اختر عباس خان ڈریپ کے ملازم ہیں اور فارمیسی کونسل کے عملے میں شامل نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ڈاکٹر اختر عباس خان بائی لاز کی مقررہ شرائط پر پورا نہیں اترتے، اور جب قانون میں کسی معاملے کے لیے مخصوص طریقہ کار طے کیا گیا ہو تو اس پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس قانونی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا گیا یہ نوٹیفکیشن قانونی طور پر قائم نہیں رہ سکتا۔
یہ فیصلہ سرکاری اداروں میں تقرریوں اور اضافی چارج دینے کے عمل میں قانونی تقاضوں کی پاسداری کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ کسی بھی عہدے پر تعیناتی یا چارج کی ذمہ داری اس وقت تک درست تسلیم نہیں کی جا سکتی جب تک کہ متعلقہ قانون اور سروس قواعد کی تمام شرائط پوری نہ کی جائیں۔
واضح رہے کہ فارمیسی کونسل ریگولیٹری امور میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کے سیکرٹری کی تقرری کے لیے قانون میں مخصوص طریقہ کار مقرر ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سرکاری محکموں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اضافی چارج یا قائم مقامی تقرریوں سمیت ہر انتظامی اقدام قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے۔
یاد رہے کہ تحریری فیصلے میں قانونی نکات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی اجاگر کیا گیا کہ عدالتوں کا کردار قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ اس فیصلے کا اثر مستقبل میں اس نوعیت کی تقرریوں پر مرتب ہو سکتا ہے، جہاں متعلقہ قواعد کی پاسداری کو یقینی بنانا ضروری ہو گا۔
اب تک کی کہانی اسلام آباد ہائیکورٹ
- اسلام آباد ہائی کورٹ کا پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کے انتخابات غیر قانونی قرار دینے کا حکم
- اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایئرپورٹ سے لاپتا پاکستانی نژاد امریکی خاتون کی بازیابی پر ایف آئی اے اور پولیس سے رپورٹ طلب
- اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ایم ڈی سی حکام کو توہین عدالت میں شوکاز نوٹس، 25 نومبر تک جواب طلب
- اسلام آباد ہائیکورٹ کا سانحہ پمز کا مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا حکم، کوتاہی ثابت ہونے پر کارروائی کی وارننگ









