around.pk
Saturday, 7 November 2026
☀ کراچی 25°☀ لاہور 17°☀ اسلام آباد 16°
کاروبار

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے کی غیر معمولی ادائیگی، مالی بے ضابطگیوں اور تعمیراتی پیشرفت میں عدم توازن کا انکشاف۔

around.pk·8m ago

پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبے دیامر بھاشا ڈیم میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں کے قواعد کی خلاف ورزیوں، غیر مجاز ادائیگیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2025-26 کے مطابق جون 2025 تک منصوبے پر تعمیراتی کام کی حقیقی پیشرفت صرف 19.95 فیصد رہی، جبکہ مالی پیشرفت 39.67 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جس سے سرکاری وسائل کے استعمال اور تعمیراتی نتائج کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کے لیے 73 ارب 31 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اکتوبر 2010 سے جون 2021 کے دوران ڈپٹی کمشنر/لینڈ ایکوزیشن کلکٹر چلاس کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ اس اکاؤنٹ سے 4 ارب 96 کروڑ روپے سے زیادہ 24 مختلف نجی بینکوں میں منتقل کیے گئے، جسے آڈٹ نے ٹریژری رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ذمہ داری کے تعین اور مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی سفارش کی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں مرکزی ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ پاور چائنا اور ایف ڈبلیو او کے مشترکہ منصوبے کو 442 ارب 40 کروڑ روپے سے زیادہ میں دینے کا ذکر ہے۔ آڈٹ نے قرار دیا کہ ٹھیکیدار کی اہلیت کے معیار پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا، اور کنسلٹنسی خدمات کے 27 ارب 18 کروڑ روپے کے معاہدے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن کا طریقہ اختیار کیا گیا، تاہم بعد میں اسے کوالٹی بیسڈ سلیکشن میں تبدیل کر دیا گیا۔

آڈٹ میں مرکزی ٹھیکیدار کو کنٹریکٹ میں ترمیم کے ذریعے 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آر سی سی کنکریٹ کی تنصیب کا متعلقہ کام کیے بغیر ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرکے موجودہ بل آف کوانٹٹیز کی رقم کو دو ادائیگیوں میں تقسیم کیا گیا، جس سے ٹھیکیدار کو 10 ارب 17 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ادا کی گئی۔

اسی طرح ٹھیکے دار سے موبلائزیشن ایڈوانس کی 1 ارب 92 کروڑ روپے کی واجب الادا اقساط کی بروقت کٹوتی نہ کرنے اور مزید 1 ارب 12 کروڑ روپے کی وصولی 50 اقساط میں کرنے کی منظوری پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں ٹھیکے دار کو 67 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زیادہ اضافی ادائیگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق ہر عبوری ادائیگی کے بل سے 10 فیصد رقم بطور ریٹینشن منی کاٹی جانی تھی، تاہم 20 ارب 52 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں میں سے مطلوبہ رقم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔

آڈٹ نے کنسلٹنٹس کے لیے دفاتر اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کے نام پر ٹھیکے دار کو 53 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کو بھی غیر مناسب قرار دیا۔ اسی طرح سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے دعوے پر 10 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زیادہ کی ادائیگی، ڈیزائن میں تبدیلی کے باعث 10 کروڑ سے زیادہ کے ضیاع، تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی نرخوں کے استعمال سے 8 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زیادہ اضافی ادائیگی اور دیگر مدات میں بھی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کیڈٹ کالج چلاس کے بیرونی ترقیاتی کاموں میں ٹف ٹائلز کی تنصیب کے لیے مقررہ سرکاری نرخوں کے بجائے زیادہ نرخ استعمال کرنے، شاہراہ قراقرم کی مرمت کے اخراجات کی عدم وصولی کی مد میں تقریباً 2 کروڑ روپے اور دیگر ٹھیکوں میں ڈرائیوروں کی تنخواہوں اور بلٹ پروف گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیمآڈیٹر جنرل آف پاکستانچلاسایف ڈبلیو اوشاہراہ قراقرمپاور چائنا

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں