یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب میں چھ فوجی حملوں کا دعویٰ
یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کے حق میں آزاد شواہد سامنے نہیں آئے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب میں تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہفتے کے روز مجموعی طور پر چھ کارروائیاں کی گئیں جن میں سعودی عرب کے اندر اور یمن میں موجود فوجی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان کے مطابق ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون طیارے استعمال کیے گئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل حملے کا ہدف بنایا گیا، جبکہ ریاض میں تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور آئل پروسیسنگ سے متعلق ایک ڈسٹلیشن ٹاور کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب کے اہم تیل پیدا کرنے والے علاقے خریص میں آرامکو کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور دوادمی کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 8 میں تیل کی ترسیل سے متعلق تنصیب کو بھی مبینہ کارروائی کا ہدف بنایا گیا۔ اس کے علاوہ نجران میں سعودی نیشنل گارڈ کے کیمپ میں فوجی اہلکاروں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔
حوثی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یمن کے صوبوں الجوف اور مارب میں سعودی حمایت یافتہ فوجی اہداف پر حملے کیے گئے، جن میں بعض اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا اور سعودی فوجی اہلکاروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی تائید کے لیے کوئی مکمل تفصیلات یا آزادانہ شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ یمن میں جاری تنازعے کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن کی اکثر آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پاتی۔ سعودی حکام کی جانب سے ان تازہ دعوؤں پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
توانائی کے شعبے سے منسلک تنصیبات پر حملوں کے دعوے بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے اس پیش رفت کو عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات کے بعد صورتحال کی آزادانہ تصدیق اور دونوں فریقوں کے سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہے۔
اب تک کی کہانی یمن
- شام نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوج بھیجنے کی خبروں کی تردید کر دی
- یمن تنازعے میں شام کے 3 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کی رپورٹ، شامی حکومت کی تردید
- یمن کے صوبے صنعا میں فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی، حوثی ذرائع
- یمن تنازعہ: حوثیوں کا جنگ بندی کے لیے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ









