around.pk
Saturday, 7 November 2026
☀ کراچی 27°☀ لاہور 20°☀ اسلام آباد 17°
دنیا

یمن تنازعے میں شام کے 3 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کی رپورٹ، شامی حکومت کی تردید

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے شام سے تقریباً تین ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر اتفاق کیا ہے، تاہم شامی حکومت نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

around.pk·8m ago

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی کے تناظر میں ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق سعودی عرب نے شام سے تقریباً تین ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر اتفاق کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یمنی فوجی اور دفاعی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ریاض عالمی سطح پر فوجی تعاون حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے تاکہ حوثی باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے اور عدن میں قائم یمنی حکومت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق تین یمنی فوجی ذرائع اور ایک دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ سیکڑوں شامی فوجی پہلے ہی سعودی عرب اور یمن میں تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید فوجیوں کی آمد متوقع ہے۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق شام اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے تقریباً تین ہزار فوجی بھیجنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی منظوری شامی صدر احمد الشرع کے حالیہ دورۂ ریاض کے دوران دی گئی، جہاں دونوں ممالک نے دفاعی معاہدے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ یمنی فوجی حکام کے بقول یمن کی سرحد کے قریب پہلے سے موجود شامی اہلکار حوثی باغیوں کے خلاف ڈرون آپریشنز کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔

یمن کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً تین ہزار شامی جنگجو، فوجی افسران اور ماہرین تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے جن میں سے کچھ پہلے ہی میدان میں موجود ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان دوبارہ شدید لڑائی جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ شامی حکومت کی تردید اور یمنی حکام کے دعوؤں کے درمیان واضح تضاد موجود ہے، جبکہ شامی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق ان اطلاعات کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے اس رپورٹ کو حتمی حقیقت کے بجائے ذرائع کے دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

شام اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یمنی تنازعہ برسوں سے جاری ہے اور اس میں علاقائی طاقتوں کی شمولیت کی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ہر دعوے کی آزاد تصدیق ضروری ہے۔

اب تک کی کہانی یمن

  1. یمن کے صوبے صنعا میں فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی، حوثی ذرائع
  2. یمن تنازعہ: حوثیوں کا جنگ بندی کے لیے سعودی عرب سے 51 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ
  3. حوثیوں کا سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے 51 ارب ڈالر اور بطور حکمران تسلیم کیے جانے کا مطالبہ
  4. سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کا بیلسٹک میزائل روک لیا، نجران، ابہا اور خمیس مشیط سے خطرے کے الرٹس ختم
پوری ٹائم لائن دیکھیں →
سعودی عربحوثییمنشاماے ایف پیاحمد الشرع

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں