جہانگیر خان نے پاکستان اسکواش فیڈریشن کی ماضی کے چیمپئنز سے عدم شناسائی پر سخت تنقید کی
سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کے حکام ماضی کے چیمپئنز کو صحیح طور پر نہیں پہچانتے، جس کی تازہ مثال 1963 کے برٹش اوپن چیمپئن محب اللہ سینیئر کی جگہ ہم نام کھلاڑی کی تصویر لگانا ہے۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
پاکستان کے عظیم اسکواش کھلاڑی اور سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان نے پاکستان اسکواش فیڈریشن کی جانب سے کھیل کی تاریخ اور ماضی کے چیمپئنز سے عدم شناسائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ فیڈریشن کے حکام گزشتہ دور کے نامور کھلاڑیوں کو درست طور پر پہچانتے ہی نہیں، جو کھیل کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہے۔
چھ مرتبہ عالمی چیمپئن اور دس مرتبہ برٹش اوپن چیمپئن شپ جیتنے والے جہانگیر خان نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے پس منظر میں آویزاں تصاویر کی جانب اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1963 کے برٹش اوپن اسکواش چیمپئن محب اللہ سینیئر کی جگہ ماضی کے ایک اور ہم نام کھلاڑی محب اللہ کی تصویر لگانا عملی طور پر انتہائی مایوس کن اور شرمناک مثال ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کھلاڑی کی شناخت اور اس کی تاریخی حیثیت کو نظر انداز کرنا نہ صرف اس کی خدمات کی توہین ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی غلط پیغام ہے۔ جہانگیر خان کے مطابق پاکستان نے اسکواش کے میدان میں عالمی سطح پر نام کمایا ہے اور ان ستاروں کی قدر کرنا فیڈریشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان اسکواش کی عالمی تاریخ میں کئی بڑے ناموں کا حامل ہے، جن میں محب اللہ سینیئر، ہاشم خان، روشن خان اور جہانگیر خان خود شامل ہیں۔ ناقدین کے مطابق ادارہ جاتی سطح پر ان یادگاروں کی درست حفاظت اور شناخت یقینی بنانا کھیل کی ترویج کے لیے ناگزیر ہے۔
جہانگیر خان کی اس تنقید کو اسکواش برادری میں وسیع پیمانے پر توجہ حاصل ہو رہی ہے، جہاں یہ مطالبہ اٹھایا جا رہا ہے کہ فیڈریشن ماضی کے چیمپئنز کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے اور ان کی درست نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
یاد رہے کہ اسکواش پاکستان کا وہ کھیل ہے جس نے ملک کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ شہرت دلائی، تاہم گزشتہ برسوں میں اس کھیل کی ترویج اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک ماضی کی وراثت کا تحفظ ہی مستقبل کے چیمپئنز کی تربیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اب تک کی کہانی اسکواش
- پاکستان نے ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت لیا
- پاکستان نے کوریا کو شکست دے کر 23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ جیت لی
- پاکستان کو مسلسل چار بین الاقوامی اسکواش ٹورنامنٹس کی میزبانی مل گئی، مجموعی انعامی رقم 4 لاکھ 39 ہزار ڈالر
- اسلام آباد میں 23ویں ایشین ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کا آغاز










