راولپنڈی میں پہلی بار خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا دی گئیں
راولپنڈی میں عدالتی پیشی کیلئے خواتین ملزمان کو پہلی مرتبہ ہتھکڑیاں پہنائی گئیں، جس پر وکلاء اور رشتہ داروں نے شدید احتجاج کیا۔
یہ خبر اور ہر اہم خبر سب سے پہلے واٹس ایپ پر پائیںaround.pk اردو خبریں چینل — مفت، بغیر سپیم فالو کریں
راولپنڈی میں ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ جیل سے کچہری اور واپس جیل منتقل کیا گیا۔ اس اقدام پر خواتین ملزمان کے رشتہ داروں اور مقامی وکلاء نے سخت احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھ چھ سے سات گھنٹوں تک ہتھکڑیوں سے جکڑے رہے، جبکہ اس دوران انہیں پولیس وین میں سوار ہونے، اترنے، واش روم جانے اور لباس درست کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
خواتین ملزمان نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار انہیں وین میں سوار کروانے یا اتارتے ہوئے مختلف بہانوں سے پیچھے سے پکڑتے اور ہاتھ تھامتے تھے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کے وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ہتھکڑیاں لگانا غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل ہے۔ وکلاء کا مؤقف تھا کہ خواتین کو سزائے موت بھی نہیں دی جا سکتی۔
سینیئر وکیل شان زیب خان کے مطابق یہ فیصلہ سی پی او راولپنڈی کے حکم پر کیا گیا، جسے وکلاء نے غلط قرار دیا۔
اب تک کی کہانی Arrests
- پاک فوج کی افغانستان میں 10 مقامات پر جوابی کارروائی، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ
- سندھ میں مفرور و اشتہاری ملزمان کی تعداد 77 ہزار سے تجاوز کر گئی
- کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ
- آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو لاہور ہائیکورٹ نے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا









