اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد: عرب جماعتوں کی حمایت سے آئزنکوٹ کی وزیراعظم بننے کی راہ ہموار
اسرائیل کی عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے گادی آئزنکوٹ کو وزیراعظم نامزد کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے انہیں 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے۔

اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عرب سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ نے گادی آئزنکوٹ کو نئے وزیراعظم کے طور پر نامزد کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد آئزنکوٹ کو 120 رکنی پارلیمنٹ کنیسٹ کے 67 ارکان کی سفارشات حاصل ہونے کی توقع ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے زیادہ ہے۔
جوائنٹ لسٹ میں شامل تینوں جماعتوں نے متفقہ طور پر طے کیا کہ وہ صدر اسحاق ہرزویگ کو آئزنکوٹ کی نامزدگی کی سفارش کریں گی۔ اتحاد کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تاکہ سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو روکا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جوائنٹ لسٹ کی جانب سے آئزنکوٹ کی حمایت سے نیتن یاہو کے مقابلے میں ان کی برتری مزید واضح ہو جائے گی اور ایسی مشترکہ حکومت کے قیام کا امکان کم ہو جائے گا جس میں نیتن یاہو بھی اقتدار کا حصہ دار ہوں۔ یہ صورتحال اسرائیل کی سیاست میں ایک نیا موڑ قرار دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کے بعد اب اسرائیلی صدر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ حکومت بنانے کی دعوت کس رہنما کو دی جائے۔ صدر کی یہ مشاورت حکومت سازی کے آئینی عمل کا اہم حصہ ہے۔
عرب جماعتوں کے اس اتحاد کو اسرائیلی سیاست میں ’کنگ میکر‘ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، کیونکہ ان کی حمایت کے بغیر کسی بھی رہنما کے لیے حکومت بنانا مشکل ہے۔ اس صورتحال نے نیتن یاہو کے اقتدار کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہمیت کی حامل ہے اور اسرائیل کی داخلی سیاسی حرکیات کے ساتھ ساتھ خطے کی سفارتی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی صدر کی جانب سے رسمی نامزدگی کے اعلان کا ابھی انتظار ہے۔









