امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے قشم پر حملہ، دفاعی کارروائی قرار
امریکی حکام نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں محدود اور دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، جن کا مقصد ایرانی میزائل حملوں سے اپنے اثاثوں کو محفوظ رکھنا بتایا گیا ہے۔

امریکا نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرے قشم پر حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی اور محدود تھیں، جن کا مقصد امریکی اثاثوں کو ایرانی میزائل حملوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جزیرے پر کیے گئے حملے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کا اشارہ نہیں ہیں۔
ایک دوسرے امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایرانی جانب سے امریکی تنصیبات اور اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے جواب میں کیے گئے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ایران کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں انجام دی گئیں۔
اس سے قبل پیر کے روز ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد امریکی حکام نے جزیرے پر حملوں کی تصدیق کی۔ امریکی حکام کے بیانات کے مطابق حملوں کا مقصد فوری خطرات کا جواب دینا تھا۔
تاہم جزیرہ قشم پر ہونے والے حملوں کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ نقصانات سے متعلق معلومات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات اور دونوں فریقوں کی جانب سے آنے والے بیانات پر صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکی سیاست میں بھی حالیہ دنوں میں اہم پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے، جن میں عدالتی فیصلوں اور سینیٹ کی نشستوں کے حوالے سے مقابلے شامل ہیں۔









