امریکی نائب صدر کا نجی محفلوں میں نیتن یاہو کی حکمت عملی پر شدید تنقید کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے نجی گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم کی ایران پالیسی کو غلط قرار دیا اور صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کریں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نجی محفلوں میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نائب صدر نے ان گفتگوؤں میں الزام لگایا کہ نیتن یاہو ایران کے معاملے میں تقریباً ہر موقع پر غلط فیصلے کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی زور دیا کہ وہ فوجی راستے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں تاکہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جنگ امریکی ووٹرز میں غیر مقبول ہے اور اس کے سیاسی اثرات ری پبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نائب صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کی وجہ سے پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، اس لیے انہوں نے اس معاملے پر محتاط اور مذاکراتی رویہ اپنانے کی وکالت کی۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف جنگ اور اس کے معاشی و سیاسی مضمرات امریکی سیاست میں بحث کا مرکزی موضوع بنے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بیانات نجی گفتگو سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے سامنے آئے ہیں اور امریکی نائب صدر کی جانب سے ان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے انہیں فی الحال غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس نوعیت کے انکشافات نے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر بھی ایران پالیسی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام پر اس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔










