امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا، مواخذے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کا عزم
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس میں اپنے خلاف جاری مواخذے کی کوششوں کا سامنا کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی انہیں عہدے سے ہٹانے کی تجاویز مسترد کردی ہیں۔

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس میں اپنے خلاف چلائی جانے والی مواخذے کی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور عہدہ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ پینٹاگون میں برقرار رہتے ہوئے اپنے مخالفین کی کوششوں کا سامنا کریں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس میں ان کے ناقدین کی تنقید اور مواخذے کے مطالبات میں مسلسل شدت آ رہی ہے۔
ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو ایک جرات مندانہ اور تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔ تاہم رواں ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں نے اس جنگ کے سبب ری پبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچایا، جس کے بعد ان کے خلاف دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر دفاع نے اپنے پیغام میں حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وزیر دفاع کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے سے متعلق سوالات کو مسترد کردیا ہے۔ دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ حکیم جیفریز نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ اب تک اپنے عہدے پر کیوں فائز ہیں۔ سابق فاکس نیوز میزبان ہیگسیتھ امریکی سیاست میں ایک متنازع شخصیت تصور کیے جاتے ہیں اور انہیں اپنی ہی ری پبلکن پارٹی کے بعض ارکان کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔
کانگریس میں ان کے ناقدین بنیادی طور پر ایران کے ساتھ جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار، اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے اور قانون سازوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث ری پبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو بیٹھی ہے، جو اس معاملے کی سیاسی حساسیت کو واضح کرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دفاعی اخراجات کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے پیکج کی کوششوں کے دوران بھی ہیگسیتھ اور کانگریس کے بعض ارکان کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی دفاعی پالیسی سازی میں اندرونی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے، جس کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی دفاعی منصوبہ بندی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر دفاعی اور سفارتی معاملات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کی جانب سے عہدے پر برقرار رہنے کے عزم اور صدر کی حمایت کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ کانگریس میں مواخذے کی کوششیں کس حد تک آگے بڑھتی ہیں اور اس کا امریکی سیاسی منظرنامے پر کیا اثر پڑتا ہے۔










