بٹ کوائن کا خواب اور 6.3 ارب ڈالر کی چوری: کیا کرپٹو واقعی بینکوں سے آزادی دیتا ہے؟
بائنانس پر اب تک کے سب سے بڑے حملے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے چوری ہوئے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس رقم کا بڑا حصہ کسی غیر مرکزی ریاضی نے نہیں بلکہ نجی کمپنیوں کے ایک کلک پر منجمد کیا گیا۔

بٹ کوائن نے اکیسویں صدی کے انسان کو ایک دلکش وعدہ دیا تھا کہ کوڈ پر بھروسا کرو، اداروں پر نہیں۔ اس وعدے کے پیچھے ایک پرانی خواہش چھپی ہوئی تھی کہ انسانی معاشی لین دین کو بینکوں، ریاستی جبر اور مالیاتی اداروں کی اجارہ داری سے آزاد کر دیا جائے۔ خواب دیکھا گیا کہ صراف اور بینک درمیان سے ہٹ جائیں گے اور اعتماد مکمل طور پر ریاضی، کرپٹوگرافی اور بلاک چین کے غیر جانبدار قوانین کے سپرد ہو جائے گا، مگر حقیقت نے اس کے برعکس رخ اختیار کیا۔
اکتوبر 2026 کے آخری ایام میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل صرافی ادارے بائنانس کے مرکزی نظام پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ سامنے آیا، جس میں چند لمحوں کے اندر تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے منتقل کر دیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ محض کسی ایک والٹ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حملہ آوروں نے بائنانس کے داخلی انتظامی نظام یعنی ڈیواپس تک غیر مجاز رسائی حاصل کی اور انٹرنیٹ سے جڑے خودکار ڈیجیٹل بٹووں یعنی ہاٹ والٹس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
اس حملے کا سب سے پیچیدہ پہلو ایتھریم بلاک چین کا نیا ضابطہ قرار دیا جا رہا ہے، جسے ای آئی پی 7702 کا نام دیا گیا ہے۔ اس خودکار بٹوے کو عارضی طور پر ایک بیرونی کوڈ کے تابع کر دیا گیا، جس نے حملہ آور کو تمام اثاثے کسی دوسرے کھاتے میں منتقل کرنے کا راستہ فراہم کیا۔ دوسرے لفظوں میں چور نے تالا توڑنے کی زحمت نہیں کی، بلکہ اس نے نظام کی عقل ہی کو اپنا تابع بنا لیا تاکہ گھر کا نظام اپنے مالک کے بجائے چور کے احکامات بجا لائے۔
اصل حیرت اور فکری سوال اس وقت پیدا ہوا جب اس چوری کو روکنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ متاثرہ رقم میں سے تقریباً تین ارب ڈالر کے اثاثے بلاک چین پر حرکت کرنے سے روک کر منجمد کر دیے گئے، اور یہ کام کسی خودکار الگورتھم یا غیر جانبدار ریاضی نے نہیں کیا۔ اس میں مرکزی کردار ان نجی امریکی کمپنیوں کا تھا جو ڈالر کے مساوی قیمت رکھنے والے ڈیجیٹل سکے یعنی اسٹیبل کوائن جاری کرتی ہیں۔ ٹیتھر نے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے یو ایس ڈی ٹی جبکہ سرکل نے کروڑوں ڈالر مالیت کے یو ایس ڈی سی کو محض اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایک لمحے میں فریز کر دیا۔
یہیں کرپٹو کا سب سے بڑا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ بلاک چین کا کھاتہ شاید غیر مرکزی ہو سکتا ہے، لیکن اس پر چلنے والی رقم ہرگز غیر مرکزی نہیں۔ بٹ کوائن کو چونکہ کوئی کمپنی جاری نہیں کرتی، اس لیے کوئی طاقت اسے ایک کلک پر منجمد نہیں کر سکتی، مگر اسٹیبل کوائنز کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے اسمارٹ کانٹریکٹس کے اندر جاری کرنے والے اداروں کے پاس ایک مرکزی چابی موجود ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی بٹوے کو بلیک لسٹ کر کے اس کے تمام فنڈز مفلوج کر سکتے ہیں۔ اس صلاحیت کو اس واقعے میں اربوں ڈالر کے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی بذات خود انسان کو معاشی اور سیاسی جبر سے نجات دلا سکتی ہے؟ پرانے نظام میں طاقت کا مرکز واضح تھا، مگر نئے ڈیجیٹل نظام میں یہ طاقت صرف اپنا روپ بدل کر سامنے آئی ہے۔ یہ اب پروٹوکول ڈیزائن کرنے والے ماہرین، کوڈ لکھنے والے انجینئرز، صرافی اداروں کے سرور رومز اور ایک ای میل پر اربوں ڈالر منجمد کرنے کی صلاحیت رکھنے والی نجی کمپنیوں کے پاس ہے۔ بائنانس کا یہ حادثہ محض ایک ہیکنگ کی خبر نہیں بلکہ اس بنیادی فریب پر ایک مہنگا سوالیہ نشان ہے جسے کرپٹو کے دلکش نعروں میں خوبصورتی سے بیچا جاتا رہا۔











