around.pk
Tuesday, 3 November 2026
☀ کراچی 30°☀ لاہور 24°⛅ اسلام آباد 20°
پاکستان

بیرسٹر گوہر کا دعویٰ: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے باخبر تھے

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل طور پر باخبر تھے، اور اگر قیدیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تو سیاسی تناؤ اس حد تک نہ بڑھتا۔

around.pk·3m ago

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے حکومت کے خاتمے کو خوش آئند قرار دینے جیسی کوئی بات نہیں کی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا تو ملک میں اتنا بڑا سیاسی تناؤ پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی۔ ان کے مطابق کسی بھی قیدی کو پندرہ دن کے اندر اس کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور اسی وجہ سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے حالیہ ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ اپریل کے بعد تقریباً تین سو اسی دن گزرنے کے بعد یہ پہلی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کی ضرورت خود پارٹی کو بھی تھی، اور سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی نے اس موقع پر زیادہ سیاسی بات نہیں کی البتہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض الفاظ کے استعمال پر انہیں مناسب انداز میں بات کرنی چاہیے تھی، اور حکومتی نمائندوں کا جواب بھی غیر مناسب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے مفاد میں سیاسی تناؤ کو کم کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت کے ساتھ بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور اسپیکر کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت پشاور ہائی کورٹ میں ہوئی جسے لارجر بینچ کو بھیج دیا گیا ہے، اور امید ہے کہ اس پر جلد سماعت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اور اسپیکر کا لاپتہ ہو جانا سمجھ سے باہر ہے، جبکہ پارٹی اراکین کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں