around.pk
Monday, 2 November 2026
☁ کراچی 25°☀ لاہور 22°☀ اسلام آباد 18°
ٹیکنالوجی

سائنس دانوں نے نظامِ شمسی میں ممکنہ بونا سیارہ دریافت کر لیا

چلی میں نصب طاقتور ترین دوربین کی مدد سے نظامِ شمسی کے کنارے ایک بڑا خلائی جسم دریافت ہوا ہے، جس کا قطر 370 سے 930 میل تک بتایا جا رہا ہے اور یہ پلوٹو جیسے بونے سیاروں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے۔

around.pk·2h ago

ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی کے دور دراز حصے میں ایک بڑا خلائی جسم دریافت کیا ہے، جسے عارضی طور پر 2026 ای ڈی 183 کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس کا قطر 370 سے 930 میل کے درمیان ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نظامِ شمسی میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے بڑے ممکنہ بونے سیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اگر اس جسم کا قطر 930 میل تک ہوا تو یہ برطانیہ کی لمبائی سے بھی زیادہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے باضابطہ طور پر بونا سیارہ قرار دے دیا گیا تو روایتی طور پر اسے یونانی نام دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ایسے اجرامِ فلکی کے لیے عام طور پر کیا جاتا ہے۔

یہ اہم دریافت چلی میں تقریباً 8800 فٹ بلندی پر واقع ایک جدید اور انتہائی طاقتور دوربین ویرا سی روبن ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے ممکن ہوئی۔ ماہرِ فلکیات میتھیو ہولمین نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک جدید کمپیوٹر پروگرام استعمال کیا، جو اربوں حرکت کرتے خلائی اجسام کا جائزہ لے رہا تھا۔

اسی تجزیے کے دوران پروگرام کی نظر 2026 ای ڈی 183 پر پڑی اور اس ممکنہ بونے سیارے کی موجودگی سامنے آئی۔ یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نظامِ شمسی کے ان دورافتادہ علاقوں کے بارے میں معلومات میں اضافہ کرتی ہے جہاں اب تک بہت کم اجرامِ فلکی کی نشاندہی ہو سکی ہے۔

اگر اس جسم کو باضابطہ طور پر بونا سیارہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ بونے سیاروں کے اس محدود گروپ میں شامل ہو جائے گا جس میں سیرس، پلوٹو، ہاؤمیا، میک میک اور ایریس شامل ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کو توقع ہے کہ مزید مشاہدات سے اس جسم کی درست جسامت، مدار اور سطح کی نوعیت کے بارے میں واضح تصویر سامنے آئے گی۔

فلکیاتی سائنس میں یہ پیش رفت اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ جدید دوربینوں اور کمپیوٹر پر مبنی تجزیے کی مدد سے نظامِ شمسی کے کنارے پر موجود ایسے اجسام کی نشاندہی ممکن ہو رہی ہے جو پہلے نظر سے اوجھل رہتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس نوعیت کی مزید دریافتیں سامنے آ سکتی ہیں۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں