around.pk
Thursday, 5 November 2026
☀ کراچی 26°☀ لاہور 21°☀ اسلام آباد 17°
کاروبار

سعودی عرب کے بعد چین اور کویت کی بھی 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق چین سے 4 ارب ڈالر اور کویت سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کرایا جائے گا، جس کے بعد تینوں ممالک سے مجموعی طور پر 7.3 ارب ڈالر کی رول اوور یقین دہانی مل چکی ہے۔

around.pk·1h ago

پاکستان کو معاشی طور پر سہارا دینے کے سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے بعد چین اور کویت نے بھی مجموعی طور پر 4.3 ارب ڈالر کے قرض کی رول اوور کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق چین کی جانب سے 4 ارب ڈالر جبکہ کویت کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض رول اوور کرایا جائے گا۔ اس طرح سعودی عرب، چین اور کویت سمیت تینوں ممالک سے مجموعی طور پر 7.3 ارب ڈالر کے قرض کی رول اوور کی یقین دہانی حاصل ہو چکی ہے، اور یہ رول اوور تقریباً ایک سال کی مدت کے لیے کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چین سے 4 ارب ڈالر کا قرض مارچ 2027 میں رول اوور کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دسمبر کے دوران آئی ایم ایف سے بھی 1.21 ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کی توقع ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر 21 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں، جن میں 7.3 ارب ڈالر کی رول اوور بھی شامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے دی گئی یہ سہولت مالی سال کے دوران ادائیگیوں کے بوجھ کو کسی حد تک کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس حوالے سے ایک روز قبل وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کے قرض کی رول اوور کا معاملہ طے پا چکا ہے اور اسے مناسب وقت تک کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ انتہائی مثبت ملاقات ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں، اس لیے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب کی جانب سے مزید مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ ملک کے پاس تین ماہ کی درآمدات کا کور موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر سال تقریباً ڈیڑھ ارب یورو کے یورو بانڈ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اس معاملے میں کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس دسمبر میں متوقع ہے، تاہم ابھی تاریخ کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق دوست ممالک کی جانب سے قرضوں کی رول اوور کی یقین دہانی اور آئی ایم ایف کی قسط کی توقع پاکستان کے بیرونی کھاتے کو سہارا دے گی، تاہم طویل مدتی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں