around.pk
Thursday, 5 November 2026
⛅ کراچی 34°⛅ لاہور 28°☀ اسلام آباد 24°
پاکستان

سندھ ہائیکورٹ کا صوبے بھر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے جامع ماسٹر پلان بنانے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں ٹریفک کے بگڑتے نظام کو درست کرنے کے لیے جامع ماسٹر پلان تیار کرنے اور چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

around.pk·30m ago

سندھ ہائیکورٹ نے صوبے بھر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کرنے کا حکم دیا ہے اور چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں۔ عدالت نے ہیوی ٹریفک کے شہر میں داخلے پر پابندی اور ٹریفک سے متعلق سات درخواستوں پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق اس کمیٹی میں محکمہ داخلہ، محکمہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ محکمہ ماحولیات، محکمہ موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ ساحلی ترقی کو بھی کمیٹی کا حصہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی صوبے بھر میں ٹریفک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے گی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے گی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ماسٹر پلان میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں اور عمل درآمد کی مقررہ مدت واضح طور پر درج کی جائے، جبکہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور نگرانی کے ایک مؤثر نظام کو بھی اس پلان کا حصہ بنایا جائے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ہر ضلع کی ٹریفک سے متعلق مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھا جائے اور بدلتی ہوئی صورتحال اور عوامی ضروریات کے مطابق ماسٹر پلان پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جائے۔

ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عدالت نے محکمہ ماحولیات سندھ کو ہدایت کی کہ وہ موٹر گاڑیوں سے متعلق جامع قواعد و ضوابط تیار کرے، اور سیکریٹری ماحولیات مجوزہ قوانین کا مسودہ تیار کر کے چیف سیکریٹری کو پیش کریں۔ مجوزہ قواعد میں گاڑیوں کے دھوئیں، ماحولیاتی معیارات اور گاڑیوں کی انسپکشن و ٹیسٹنگ کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کا نظام بھی وضع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور موجودہ قانونی فریم ورک پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور ٹریفک کے مؤثر انتظام کو محض اجلاسوں اور رپورٹس تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس پر حقیقی عمل دیکھا جائے۔

یاد رہے کہ کراچی میں حال ہی میں یونیورسٹی روڈ پر ایک اہم ایلیویٹڈ یوٹرن ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا، جبکہ وزیراعظم نے پیٹرول ریلیف کی سہولت نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کا یہ حکم صوبے خصوصاً کراچی میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اسی موضوع پر مزید

سب دیکھیں →

مزید پڑھیں